تنگی مَحْسُوس کرے اور اسے تسلیم نہ کرے اس کا اِیمان سَلْب کر لیا جاتا ہے۔ نیز حضرت سَیِّدُنا تاجُ الدِّین بن عطاء اللّٰه شاذِلی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِالْوَلِی فرماتے ہیں کہ آیَتِ مُبارَکہ میں اس بات پر دَلَالَت ہے کہ حقیقی اِیمان اسی شخص کو حاصِل ہوتا ہے جو قول وفعل، عَمَل کرنے و تَرْک کرنے اور مَحبَّت و بُغْض ہر اِعْتِبَار سے اللہ ورسول عَزَّ وَجَلَّوصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حکْم مانے۔ مزید فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان لوگوں سے جو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فیصلے کو نہیں مانتے یا مانتے ہیں لیکن دِل میں حَرَج بھی مَحْسُوس کرتے ہیں، صِرف اِیمان کی نفی نہیں کی بلکہ اس پر اُس رَبُوبِیَّت کی قَسَم بھی یاد فرمائی ہے جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ خاص ہے۔ 1
کنگن اتار کر پھینک دئیے
حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بڑی عَقْل مند اور بَہَادُر صَحابیہ تھیں،آپ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے جنگ یرموک میں نو۹ کافِروں کو خیمے کی لکڑی سے واصِلِ جہنّم کر دیا تھا۔2آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں کہ جب میں بارگاہِ رِسَالَت میں بَـیْعَت کے لئے حاضِر ہوئی تو اس وَقْت میں نے سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے۔ جب قریب پہنچی تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی چمک
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ماخوذاز المواھب اللدنیة،المقصد السابع، الفصل الاول فی وجوب محبته…الخ،۲/۴۹۳
2……اشعۃاللمعات،ضیافت کابیان،تیسری فصل،۵/۵۱۳