Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
49 - 62
حکم سرکار بجا لانے کی ایک اور مثال
حضرت سَیِّدُنا بَرزَہ اَسلمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مَرْوِی ہے کہ حضرت سَیِّدُنا جُلَیْبِیْب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ  ایک خوش مِزاج شخص تھے ،مگر ان کی ایک عادت ایسی تھی جو مجھے پسند نہ تھی۔  لہٰذا میں نے اپنے گھر والوں کو سختی سے مَنْع کر دیا کہ آج کے بعد وہ تمہارے پاس نہ آئیں۔(ان دِنوں)اَنصار کا چونکہ یہ مَعْمُول تھا کہ کسی لڑکی کی شادی اس وَقْت تک نہ کرتے جب تک یہ مَعْلُوم نہ کرلیتے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نبی کو اِس کے رشتے میں دلچسپی ہے یا نہیں؟ چنانچہ ایک مرتبہ جب آقائے نامدار، نبیوں کے سالار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک انصاری شخص کو فرمایا: مجھے اپنی بیٹی کا رشتہ دے دو۔ تو اس نے خوش ہو کر کہا: یہ تو ہمارے لیے قابِلِ شَرَف اور اِعزاز کی بات ہے کہ آپ ہماری بیٹی کا رشتہ لے رہے ہیں۔اس پر حُضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: میں اپنے لیے اس رشتے کا خواہش مند نہیں ہوں۔ اَنصاری صحابی نے عَرْض کی: پھر کس کے لیے؟ اِرشَادفرمایا: جُلَیْبِیْب کے لیے۔ تو عَرْض کرنے لگے: میں اس بارے میں لڑکی کی ماں سے مَشْوَرَہ کرنا چاہتا ہوں۔لہٰذا وہ اَنصاری صحابی  حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِجازَت لے کر اپنی بیوی کے پاس آئے اور جب اسے بتایا کہ اللہ کے نبی تمہاری بیٹی کے رشتے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس نے خوشی کا اِظْہَار کرتے ہوئے کہا یہ تو ہمارے لیے