Brailvi Books

قسط14: بچوں کو دھوپ لگانے کے فَوائد
16 - 22
سے بالکل الگ اُگ جاتے ہیں انہیں لے سکتے ہیں لیکن اگر انہیں لیں گے تو بعد میں یہاں بھی سخت بال نکلنا شروع ہو جائیں گے ۔  اس لیے میرا یہ مشورہ ہے کہ  اگر ضَرورت نہ ہو تو یہاں اُسترا یا بلیڈ کچھ بھی نہ  لگایا جائے ۔ جو لوگ  داڑھی پوری نہیں مونڈتے وہ گڑھے ڈال کر  تھوڑا حِصّہ مونڈ ڈالتے ہیں ۔  اِسی طرح مذہبی لوگوں کی ایک تعدادہے  جو بعض اوقات  عِلم رکھنے کے باوجود  نچلے  ہونٹ کے نیچے داڑھی کے بال  لے رہی ہوتی ہے جسے بُچی بولتے ہیں ، اسے لینے کی  بھی ممانعت ہے لہٰذا ان بالوں کوجُوں کے توں چھوڑ دینا چاہیے ۔  البتہ اِکّا دُکّا بال جو کھانے کے دَوران مُنہ میں آ جاتا ہو اُسے کاٹ سکتے ہیں ۔  (1)
داڑھی کا خط بنوانے میں غلطی نہ کیجیے 
 لوگوں کی ایک تعداد ہو گی  کہ اُن کے حِساب سے اُن کی داڑھی پوری ہو گی مگر



________________________________
1 -    اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : داڑھی قلموں کے نیچے سے کنپٹیوں ، جبڑوں ، ٹھوڑی پر جمتی ہے اور عَرضاً اس کا بالائی حِصّہ کانوں اور گالوں کے بیچ میں ہوتا ہے ۔  جس طرح بعض لوگوں کے کانوں پر رونگٹے ہوتے ہیں وہ داڑھی سے خارِج ہیں ، یوں ہی گالوں پر جو خفیف بال کسی کے کم کسی کے آنکھوں تک نکلتے ہیں وہ بھی داڑھی میں داخِل نہیں یہ بال قدرتی طور پر مُوئے رِیش (یعنی داڑھی کے بالوں)سے جُدا مُمتاز ہوتے ہیں اس کا مسلسل راستہ جو قلموں کے نیچے سے ایک مَخروطی شکل پر جانبِ ذقن (یعنی ٹھوڑی کی طرف)جاتا ہے یہ بال اس راہ سے جُداہوتے ہیں نہ ان میں مُوئے مَحاسِن(یعنی داڑھی کے بالوں) کے مِثل قوَّتِ نامِیہ(یعنی بڑھنے کی قوَّت) ان کے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ بسا اوقات ان کی پَرورش باعِثِ تشویۂ خَلق وتقبیحِ صورت(یعنی مخلوق کی تشویش اور چہرے کی بَدصورتی کاسبب) ہوتی ہے جو شرعاً ہر گز پسندیدہ نہیں ۔  (فتاویٰ رضویہ ، ۲۲ / ۵۹۶)