Brailvi Books

قسط 12: اِغوا سے حفاظت کے اَوراد
43 - 44
	کھانے کے وہ ذَرّات جو کھائے جا سکتے ہوں انہیں  پھینک دینا اِسراف ہے جو سرا سر حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ۔ لہٰذا کھانے کے بچے ہوئے اَجزاء کو پھینک دینے کے بجائے ان کی ثرید بنا لی جائے ۔ ثرید سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو پسند تھی ۔ ( 1) 
ثرید بنانے کا طریقہ یہ ہے کہ جو کچھ کھانا بچے یعنی سالن ، دال اور چاول وغیرہ اسے  فریج میں محفوظ کر  لیں ۔ جب یہ بچا ہوا کھانا زیادہ مِقدار میں جمع ہو جائے ان سب کو ایک ساتھ پکانے کے لیے ہانڈی میں ڈال دیں اور اوپر سے روٹی کے ٹکڑے ڈال کر اس میں بھگو لیں ، سالن کم ہو تو تھوڑا پانی مِلا لیں اور حَسبِ ذائقہ نمک مرچ اور زیرہ ڈال کر اسے ڈھک دیں اور کوئی وزنی چیز اس کے ڈھکن پر رکھ دیں پھر اس کو خوب اچھی طرح پکائیں ۔ جب اندازہ ہو جائے کہ یہ خوب اچھی طرح پک چکا ہے تو اس کو تھال میں نکالیں اور اوپر سے کھجور کے  ٹکڑے ڈال دیں اس طرح اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ   کھانا  ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گا اور بہترین غِذا بھی تیار ہو جائے گی ۔ 
	اگر کوئی روٹی کے ٹکڑے اور غِذا کے دانے وغیرہ سے اس طرح ثرید نہ بنائے تو وہ انہیں پھینکنے کے بجائے مُرغیوں ، چیونٹیوں یا بکریوں کو کھلادے تو بھی یہ غذا ضائع ہونے سے بچ جائے گی ۔ 



________________________________
1 -    ابوداود ، کتاب الاطعمة ، باب فی اکل الثرید ، ۳ / ۴۹۲ ، حدیث : ۳۷۸۳  دار احیاء التراث العربی بیروت