نہیں بلکہ ان میں خوب بگاڑ ہوتا ہے جو فَساد کا باعِث بنتا ہے ۔ (1 ) یعنی اگر کسی کے دِل میں فَساد کا بیج موجود ہو تو عِلمِ دِین حاصِل کرنے کے باوجود اس کے دِل سے فَساد ہی پیدا ہوگا کہ وہ بیج دِن بدن پَرورِش پاتا رہے گا بالآخر تن آور دَرخت بن کر فساد بَرپا کرے گا ۔ کیونکہ پھل ہمیشہ بیج کی مثل ہی حاصِل ہوتا ہے جیسا بیج بویا جائے گا ویسا ہی پھل ملے گا اگر گیہوں( یعنی گندم) بوئیں گے تو گیہوں ملیں گے ، جَو بوئیں گے تو جَو ملیں گے اور چاول بوئیں گے تو چاول ملیں گے ۔ اسی طرح بعض لوگوں کے دِلوں میں بَدبختی اور شرارت کا بیج ہوتا ہے یہ لوگ عِلمِ دِین حاصِل کربھی لیں تو اس بیج کی جَڑیں ان کے دِل میں مَضبوط ہو چکی ہوتی ہیں یوں وہ لوگ فَساد پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں ۔ نیز جس خوش نصیب کے دِل میں شَرافت اور سعادت مندی کا بیج ہوتا ہے پھر وہ اس بیج کی عِلمِ دِین کے ذَریعے خوب آبیاری کرتا ہے اور اس میں مَزید نِکھار پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ
________________________________
1 - حضرتِ سیِّدُنا وَہب بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : عِلم کی مِثال تو بارِش کے اُس پانی کی طرح ہے جو آسمان سے صاف و شَفَّاف اورمیٹھا نازِل ہوتا ہے اور دَرخت اُس کواپنی شاخوں کے ذَریعے جَذب کر لیتے ہیں ۔ اب اگر دَرخت کَڑوا ہوتا ہے تو بارش کا پانی اُس کی کَڑواہٹ میں اِضافہ کرتا ہے اور اگر وہ دَرخت میٹھا ہوتا ہے تو اُس کی مِٹھاس میں اِضافہ کرتا ہے بس یونہی عِلم بذاتِ خود تو فائدے کا باعِث ہے مگر جب خواہشاتِ نفس میں گِرفتار اِنسان اِسے حاصِل کرتا ہے تو یہ عِلم اُس کے تکبُّر میں مبتلا ہونے کا سبب بن جاتا ہے اور جب شریفُ النفس اِنسان کویہ عِلم حاصِل ہوتا ہے تویہ اُس کی شَرافت ، عبادت ، خوف و خَشِیَّت اور پرہیزگاری میں اِضافہ کرتا ہے ۔ ( حدیقة ندیة ، المبحث الثالث فی اسباب الکبر والتکبر ، ۲ / ۵۱۲ دار الکتب العلمیة بیروت)