Brailvi Books

قسط 12: اِغوا سے حفاظت کے اَوراد
35 - 44
 نگرانِ شوریٰ حاجی ابو حامد  محمد عمران بھی اِعتکاف ہی کی وجہ سے مَدَنی ماحول میں آئے تھے ۔ اعتکاف کرنے سے پہلے انہوں نے مَدَنی ماحول میں آنا جانا شروع کر دیا تھا جس کی وجہ سے ان پر کچھ نہ کچھ  اثر ہوا ، پھر جب انہوں نے اِعتکاف کیا توان کی دُنیا ہی بدل کر رہ گئی ۔  یہ اپنے اس اِعتکاف کا ماحول خود بیان کرتے ہیں کہ ” جب میں اِعتکاف میں بیٹھا تو میرے دوست مجھ سے ملنے آتے تھے چونکہ میں خود بھی  مذاق مسخری کا عادی تھا تو وہ مجھے بولتے کہ یہ سارے ڈرامے چھوڑ ۔ کیا تو مولانا لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے بیٹھ گیا ہے ؟ مگر میں بالکل سنجیدہ ہوگیا اور ان سے ایسا کوئی مذاق نہ کیا ۔  “ پھر نگرانِ شوریٰ پر اِعتکاف کا ایسا رنگ چڑھا کہ آج وہی عمران نگرانِ شوریٰ بن کر  لوگوں کے سامنے موجود ہیں اور دُنیا کی بہت بڑی تعداد ان کی عقیدت مند ہے ۔ اکثریت ان کے بیان سے مطمئن ہوتی ہے نیز ان کا بیان سننے والے اپنے اندر تبدیلی محسوس کرتے ہیں ۔ یقیناً یہ ساری بہاریں اِعتکاف کی وجہ سے ہی ہیں اس کے باوجود اگر کوئی شخص اِعتکاف کرنے کے بعد بھی نیکیوں کی راہ پر نہیں آتا اور اس کے اندر کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوتی تو یہ اس کا اپنا نصیب ہے ۔ 
حضرتِ سَیِّدُنا وَہب بِن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ تابعی بزرگ ہیں ان کے فرمان کا خُلاصہ ہے : بعض لوگ عِلمِ دِین حاصِل کرتے ہیں اس کے باوجود سُدھرتے