نواز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی چھٹی کے چھ وعظ ہوا کرتے تھے ۔ نعت خواں نعتیں پڑھتے ، صلاۃ و سلام ہوتا بلکہ امام صاحب خود بھی صلاۃ و سلام پڑھا کرتے تھے ۔ پھر محفل کے اِختتام پر شیرینی تقسیم کی جاتی تو ہم دوڑ کر لائن بنالیتے تھے ۔ شیرینی میں عام طور بسکٹ یا بوندیاں تقسیم ہوتیں ، اگر بڑی رات کی محفل ہوتی تو اس میں کیک بانٹے جاتے تھے ۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ جب سے ہوش سنبھالا صلاۃ و سلام کی آوازیں کانوں میں رَس گھولتی رہیں نیز مَحافل سے ملنے والی شیرینی سے ایسی مٹھاس نصیب ہوئی کہ اللہ پاک کے کرم سے ہمارے عقیدے بھی میٹھے میٹھے ہوگئے اور اب مجھے لاکھوں عاشقانِ رَسول کی صُحبت میسر ہے ۔
یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ہمارے علاقے میں عاشقانِ رَسول کی مسجد تھی اور میرے بڑے بھائی عبد الغنی مَرحوم جن کی ۱۵مُحَرَّمُ الْحَرَام کو بَرسی ہوتی ہے وہ مجھے نمازِ فجر کے لیے مسجد لے کر جاتے تھے یوں ہی ہمارا بقیہ نمازیں پڑھنے کا بھی معمول تھا ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا مسجد کا ہی رُخ کیا اور خوش قسمتی سے مسجد بھی یَارَسُوْلَ اللہ کہنے والوں کی ملی جس میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے اس اَنداز میں اِستغاثہ کیا جاتا : ” چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے “ ہرسال اس مسجد میں جَشنِ عید میلادُ النَّبی کے موقع پر مُوئے مبارک کی زیارت کروائی جاتی تھی ۔ اگر خُدا نخواستہ کسی اور کی مسجد ہوتی اور یہ سب ماحول مُیَسَّر نہ آتا ، وہاں کا امام عاشقِ رَسول نہ ہوتا تو نہ جانے کیا معاملہ ہوجاتا ۔