عَزَّوَجَلَّ کرم فرمائے گا ان کی رُوحیں اَعلىٰ عِلِّیِّیۡن میں ہوتی ہیں ، ىہ سب سے اَعلىٰ دَرجے کا مَقام ہے ، جس کا جىسا مَرتبہ ہوتا ہے اس کے مُطابق اس کی رُوح کا مَقام بھی ہوتا ہے ۔ (1 )
بہرحال رُوح مسلمان کی ہو یا غیر مُسلم کی اس کا اپنے بَدن سے تعلق باقی رہتا ہے اگرچہ بَدن گل سڑ جائے ۔ ” عَجبُ الذَّنب “اىک معمولى ذَرَّہ ہوتا ہے جو خوردبىن سے بھى نظر نہىں آتا ، نہ اسے آگ جَلا سکتى ہے اور نہ ہی زمىن اسے گلا سکتى ہے ، یہ ذَرَّہ باقى رہتا ہے ، اسی سے بَدن کى دوبارہ تَرکیب ہو گى ، اس کے ساتھ رُوح کا تعلق باقی رہتا ہے ۔ ( 2)
دو پیروں کا مُرید ہونے والاکِس کا مُرید کہلائے گا؟
سُوال : اگر کوئى شخص دو پىروں کا مُرىد ہوا تو وہ ان دونوں میں سے کس کا مُرىد کہلائے گا؟ ( بہاولپور سے سُوال )
جواب : پہلے جس کا مُرىد ہوا تھا اگر اس کى بىعت نہىں توڑى تھى ىا اس سے عقىدت ختم
________________________________
1 - اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : رُوح کا مقام بعدِ موت حَسبِ مَراتب مختلف ہے ۔ مسلمانوں میں بعض کی رُوحیں قبر پر رہتی ہیں اور بعض کی چاہِ زَمزم میں اور بعض کی آسمان و زمین کے دَرمیان اور بعض آسمانِ اَوَّل دُوُم ہفتم تک ا ور بعض اَعلىٰ عِلِّیِّیۡن میں اور بعض سبز پرندوں کی شکل میں زیرِ عرش نُور کی قندیلوں میں ۔ کفّار میں بعض کی رُوحیں چاہ وادیٔ بَرہوت میں ، بعض کی زمینِ دُوُم سِوُم ہفتم تک ، بعض سِجِّیْن میں ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، ۹ / ۶۵۸)
2 - بہارِ شریعت ، ۱ / ۱۱۲ ، حصّہ : ۱ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی