پر مَثنوى مولانا رُوم کہا جاتا ہے ، یہ ضخیم کتاب ہے ، اس کے کئی حصّے ہىں ، اس مىں بڑے نصىحت آموز واقعات ہىں ۔ ( اصل کتاب فارسی میں ہے لیکن ) اس کے اُردو میں تَراجم بھى دَستیاب ہیں ۔ اللہ پاک ان دونوں ہستیوں پر اپنى رَحمتىں نازِل فرمائے اور ان کے صَدقے ہم سب کو بے حساب مَغفرت سے مُشَرَّف فرمائے ۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم
نمازِ جنازہ میں سَلام کَب پھیرا جائے ؟
سُوال : نمازِ جنازہ مىں سَلام ہاتھ چھوڑ کر پھىرنا چاہیے ىا ہاتھ باندھے ہوئے بھی پھىر سکتے ہىں؟( ہند سے سُوال )
جواب : نمازِ جنازہ مىں سَلام ہاتھ چھوڑ کر پھىرنا چاہیے ۔ پہلے ہاتھ چھوڑنے ہیں پھر سلام پھىرنا ہے ۔
مَرنے کے بعد اِنسان کى رُوح کہاں رہتى ہے ؟
سُوال : کىا اِنسان کى رُوح ہمىشہ قبر مىں رہتى ہے ؟( ہند سے سُوال )
جواب : رُوحوں کے مَقام حَسبِ مَراتِب جُدا ہیں ۔ بعض غیرمُسلموں کی رُوحیں ان کے مَرگھٹ میں قید ہوتی ہیں تو بعض کی دِیگر مَقامات پر ۔ اِسی طرح مسلمانوں کی رُوحوں کے بھی مختلف مَقامات ہیں بعض مُؤمنین کی رُوحیں ان کی قبر کے پاس رہتی ہیں تو بعض کی رُوحیں آبِ زَمزم کے کنوئیں مىں اور اَنبیائے کِرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اَولیائے کِرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام اور وہ مسلمان جن پر اللہ