طرف آ نکلے اور آپ سے پوچھا : ىہ کىا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ىہ میری کتابىں ہىں ، اِن میں مىرا عِلم ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبرىزى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے وہ کتابىں اُٹھائىں اور حوض مىں ڈال دىں ۔ مولانا رُوم گھبرا گئے اور کہا کہ اب مىں کىا کروں مىں تو خالى ہو گىا ، آپ نے میری سارى کتابىں حوض میں ڈال دیں ۔ ( ان کی گریہ وزاری دیکھ کر ) حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبریزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی نے وہ کتابیں جو پانى مىں ڈوب گئى تھىں نکال نکال کر انہیں دىنى شروع کر دىں جن پر پانى کا کوئى اَثر نہىں تھا ۔ ىہ کَرامت دىکھ کر مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم ان سے مُتأثر ہوئے کہ ىہ تو باکَرامت وَلِىُّ اللہ ہىں اور ان کے مُرىد ہو گئے اور پھر اس پر اىک شعر کہا :
مولوى ہرگز نشد مولائے رُوم
تا غُلامِ شَمس تبرىزى نشد (1 )
ىعنی مولوی ہرگز مولائے رُوم نہ بنا جب تک اس نے شَمس تبرىزی کى غُلامى اِختىار نہ کى ، مىرے پاس جو کچھ ہے اور میں جو کچھ بنا ہوں ىہ سب شَمس تبرىزی کی غُلامی کا صَدقہ ہے ۔
حضرتِ سَیِّدُنا شمس تبریزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی یہ مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کے پیر و مُرشِد ہیں ۔ مگر ان کی شُہرت کم اور مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کی شُہرت زیادہ ہے ۔ مولانا رُوم کی مَثنوى شریف بہت مشہور ہے جسے عام طور
________________________________
1 - زیاراتِ تُرکی ، ص۹۱ بغدادی ہاؤس راولپنڈی کینٹ