سب کام مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے باہر جا کر کرتے تھے ، مدىنے شریف کا ایسا اَدب تھا کہ وہاں اِستنجا کرنے کے بجائے مدىنے شریف سے باہر اىک مخصوص مقام پر جا یا کرتے تھے ۔ اس وقت کا سارا مدینہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اب مَسجدِ نبوی عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا حِصّہ بن گىا ہے ، اب مدینہ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا شہر کافى وَسیع ہو گیا ہے ىہ بھی اگرچہ مدىنہ ہى ہے لىکن حقىقت مىں جو اس مُبارک دور کا اصل مدىنہ تھا وہ پورا مسجد ِنبوى مىں شامِل ہو گیا ہے ۔
تَذکرۂ مولانا رُوم
سُوال : مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کا مَزار مبارک کہاں ہے ؟ نیز ان کی زندگی کا کوئی واقعہ بھی بیان فرما دیجیے ۔ ( 1)
جواب : حضرتِ سَیِّدُنا جلالُ الدِّىن رُومی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اور ان کے پیر و مُرشِد حضرتِ سَیِّدُنا شَمس تبریزی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی دونوں کے مَزارات تُرکی میں ہیں ۔ اللہ پاک ان کے مَزارات کی حاضِری نصیب فرمائے ۔ مولانا رُوم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَیُّوْم کا واقعہ بڑا مشہور ہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک حوض کے کنارے اپنے کام( یعنی دَرس و تدریس) میں مَصروف تھے ، سامنے چند کتابیں رکھی ہوئی تھیں ، اچانک حضرتِ سَیِّدُنا شمس تبرىزى عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اس
________________________________
1 - یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ ہی ہے ۔ ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ)