مسجدِ نبوى شرىف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مىں غالباً سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى پُشتِ اَطہر کی جانِب والے حصّے میں پناہ لىے ہوئے تھا کہ مسجدِ نبوی کی زمىن لَرزنے لگى ، ىہ اللہپاک کى رَحمت ہے کہ مجھ پر خوف طارى نہىں ہوا بلکہ مىں نے کہا کہ لگتا ہے بقىع کى آرزو پورى ہو رہى ہے ۔ مىں سمجھا کہ زَلزلہ( Earthquake) ہو رہا ہے ، ابھی زمىن پھٹى اور مىں اندر گىا ، مىں سنبھل کر بىٹھ گىا اور کلمہ شریف وغیرہ پڑھنے لگا ۔ مگر مىرا ایسا نصىب کہاں! بہرحال زمىن تھم گئى ۔ پھر مىرى توجہ اِس طرف گئى کہ اس وقت تعمىرات کے سلسلے مىں بہت ہىوى مشىنیں کام کر رہى ہیں جس کے صَدمے سے وہ مُبارَک زمىن ہل رہى تھى ۔ مجھے مشىن چلانے والوں پر بہت دُکھ ہوا کہ ان ہىوى مشىنوں کے چلنے سے ہم جىسوں کو تکلىف ہو رہى ہے تو مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو کتنا صَدمہ پہنچتا ہو گا ۔ یہ مىرے جَذبات ہىں اور میں عِشقِ رَسول اور مَحبّتِ رَسول کى بات کر رہا ہوں کیونکہ ہم عشق کے بندے ہىں کىوں بات بڑھائى ہے ۔
مدینۂ مُنَوَّرہ کا اَدب و اِحترام
اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدِّىقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا مدىنے شرىف مىں کسى کو کىل نہىں ٹھوکنے دىتى تھىں کہ یہاں مىرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آرام فرما ہىں انہیں تکلىف ہو گى ۔ (1 ) اس وقت لوگ ایسے ٹھوک ٹھاک والے
________________________________
1 - الدرة الثمینة ، الباب الخامس عشر ، ص۱۳۹ تا ۱۴۰ شركة دار الأرقم بن أبی الأرقم بیروت