میں ہىں وہ معلوم نہیں کہ دوسرى جگہوں پر بھی ہیں یا نہیں ، دوسری جگہوں میں اگر آزمائِش ہو گئى تو پھر کىا کرىں گے ۔ ىوں کئى طرح کے خوف لاحِق ہىں کیونکہ صحت کے اِعتبار سے اب ہِمَّت نہىں ہو رہى ۔ اللہ پاک چاہے گا تو ہِمَّت بھی آ جائے گى ۔ مجھے جىتے جى اِستنبول کے توپ کاپى مىوزىم کى زىارت کرنى ہے ، پھر وہاں کے اسلامى بھائىوں سے بھی مِلنا ہے ۔ تُرکی میں دعوتِ اسلامی کے بہت اہلِ محبت ہیں ، میں ان کے عشقِ رَسول سے بڑا مُتأثر ہوا ہوں ، ان لوگوں نے مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعمیر کا جو کام کیا ہے اس کی تاریخ پڑھ کر حىرت ہوتى ہے ، اىک اىک پتھر کو مدىنۂ مُنَوَّرہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً سے باہر جا کر تَراشتے تھے تاکہ ہتھوڑى کی آواز سے پىارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو تکلىف نہ ہو ۔ پھر پتھر اور سلیپ وغیرہ کو لگاتے ہوئے دُرُست کرنے کے لیے جو تھوڑی بہت ہتھوڑی اِستعمال کرنے کی ضَرورت پڑتی تو یہ لوگ ہتھوڑی پر رَبڑ لپیٹ کر اِستعمال کرتے تاکہ آواز پید ا نہ ہو اور یہ سارا کام کرنے والے حُفّاظِ کِرام تھے ۔ اِس طرح انہوں نے اَدب و اِحترام کے ساتھ مسجدِ نبوی شریف عَلٰی صَاحِبِھَاالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تعمیر کا کام کیا ۔ (1 )
میرے آقا کو کتنا صَدمہ پہنچتا ہو گا!
اب تو ایسی ہىوى مشىنىں چل رہى ہوتی ہىں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کى پناہ ، اىک بار مىں
________________________________
1 - تاریخ نجد و حجاز ، مقدمہ ، ص ۱۱تا ۱۴ ماخوذاً ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور