غىر مُسلموں کى اکثرىت ہے ۔ وہاں عاشقانِ رَسول کی صحبت میں رہیں گے اور ان کے ہمراہ سُنَّتوں کی تَربیت کے مَدَنی قافلوں میں سفر کرتے رہیں گے اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اِسلام مىں ترقی کرتے رہىں گے ۔ مىرے لىے بے حساب مَغفرت کى دُعا کىجئے گا ۔
تُرکی کے بارے میں تاثرات
سُوال : کىا آپ کبھى تُرکى گئے ہىں؟( سوشل مىڈىا کا سوال)
جواب : ابھى( ۱۹ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰ ھ بمطابق 29 ستمبر 2018) تک تو تُرکی نہىں گىا لیکن جانے کا بہت دِل کرتا ہے ۔ بس سُستى اور صحت رُکاوٹ بن رہى ہیں ۔ وہاں استنبول مىں توپ کاپی مىوزىم ( Topkapi palace museum) ہے ، جس میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کى اِستِعمال شُدہ نعمتىں ہیں جن کى زىارت کرنے کی مىرى خواہش دعوتِ اسلامى بننے سے بھى پہلے کی ہے ، لیکن اس وقت جانے کے اَسباب نہ تھے ، اب جا تو سکتا ہوں مگر صحت اور دِىگر عَوارِض رُکاوٹ بن رہے ہىں ۔ وہاں صَحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے مَزارات بھی ہیں ، اللہ پاک چاہے گا تو حاضِری ہو جائے گى ۔
ابھی سفرِمدىنہ کرلىا ہے جس سے دِل کا دَرِىچہ کُھلا ہے کہ سفرِ حج کی آزمائشیں ، تکلىفىں کعبہ شریف کا طواف اور سَعى مىں جو تھکن ہوتی ہے وہ سب بھی تو بَرداشت ہو گئی ہیں ۔ مگر کَرم کى جو بارشىں حَرَمَیْنِ طَیِّبَیْن زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْماً