اِقتدا نہیں کر سکتا ۔ (1 )
مَدَنی ماحول سے وابستگی اور دِین کا دِفاع
سُوال : ىو کے سے آئے ہوئے اسلامى بھائى نے اپنے تاثرات دیتے ہوئے ( ۱۹ مُحَرَّمُ الْحَرام ۱۴۴۰ ھ بمطابق 29 ستمبر 2018 کو) امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بارگاہ میں عرض کی : مىں نے کم و بىش پانچ سال پہلے اِسلام قبول کىا تھا اور آپ کى زىارت کے لىے حاضِر ہوا ہوں ۔
جواب : ( اس پر امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے انہیں اِصلاح کے مَدَنی پھول دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا : ) دعوتِ اسلامى کا مَدَنى ماحول مَت چھوڑنا اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس مىں آپ کے دِىن مذہب کا دِفاع ( Defence) ہوتا رہے گا ۔ اللّٰہ پاک کَرم فرمائے حالات اگرچہ یہاں( وطنِ عزیز پاکستان) کے بھی صحیح نہیں ہیں مگر آپ کے ہاں( یو کے کا ) ماحول بہت زىادہ خراب ہے ، گناہوں کا سىلاب آىا ہوا ہے اور
________________________________
1 - اِسی طرح کے ایک سُوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں : اگر معلوم ہے کہ اس وقت امام میں وہ بات ہے جس کے سبب میرے مذہب میں اس کی طہارت یا نماز فاسِد ہے تو اِقتدا حرام اور نماز باطِل ، اور اگر اس وقتِ خاص کا حال معلوم نہیں مگر یہ معلوم ہے کہ یہ امام میرے مذہب کے فرائض وشَرائط کی اِحتیاط نہیں کرتا تو اس کی اِقتدا ممنوع اور اس کے پیچھے نماز سخت مکروہ اور اگر معلوم ہے کہ میرے مذہب کی بھی رِعایت و اِحتیاط کرتاہے یا معلوم ہو کہ اس نمازِ خاص میں رِعایت کئے ہوئے ہے تو اس کے پیچھے نماز بِلا کراہت جائز ہے جبکہ سُنّی صحیحُ العقیدہ ہو نہ غیر مقلد کہ اپنے آپ کو شافعی ظاہر کرے اور اگر کچھ نہیں معلوم تو اس کی اِقتدا مکروہِ تنزیہی ۔ ( فتاویٰ رضویہ ، ۶ / ۵۷۷ رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور)