میں مَذاق اُڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ ان کا خیال ہے کہ یہ رُوم پر غالِب آجائیں گے ، کتنا بعید خیال ہے اور ایک گروپ بولتا تو نہ تھا مگر ان باتوں کو سُن کر ہنستا تھا ۔ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے ان کو طَلب فرما کر اِرشاد فرمایا کہ تم ایسا ایسا کہہ رہے تھے ؟ انہوں نے کہا : ہم راستہ طے کرنے کے لئے ہنسی کھیل کے طور پر دِل لگی کی باتیں کر رہے تھے اِس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔ دوسرا شانِ نُزول یہ ہے کہ کسی کی اُونٹنی گم ہو گئی، اس کی تلاش تھی، رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اونٹنی فُلاں جنگل میں فُلاں جگہ ہے ۔ اس پر ایک مُنافِق بولا’’محمد( صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم ) بتاتے ہیں کہ اُونٹنی فُلاں جگہ ہے ، محمد غیب کیا جانیں؟اس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے یہ آیتِ کریمہ اُتاری ۔ ( 1)
اِس آیتِ مُبارَکہ اور اِس کے شانِ نُزول سے دَرج ذیل مَدَنی پھول معلوم ہوئے : ٭اللہ پاک نے اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو غیب کا عِلم دیا تھا ۔ ٭تنہائی میں جو باتیں کی جاتی ہیں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ان کی خبر ہوتی ہے ۔ ٭نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی توہین دَرحقیقت اللہ پاک کی توہین ہے کیونکہ مُنافِقین نے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی بے ادبی کی تھی مگر اللہ پاک نے اسے اپنی توہین قرار دیا ۔ لہٰذا اِس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ تاجدارِ رِسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی تعظیم کرنا دَرحقیقت
________________________________
1 - صراط الجنان، پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ : ۶۵ ، ۴ / ۱۶۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی