تَرکیب بنا لیتا ہوں اس سے ہرگز کسی کی شان میں کمی نہیں آتی اور نہ ہی کسی کی عزت کم ہوتی ہے ۔
مصیبت کے وقت پڑھی جانے والی دُعا
سُوال : خوف اور مصیبت دُور کرنے کا وظیفہ بیان فرما دیجیے ۔
جواب : خوف اور مصیبت دونوں الگ الگ چیزیں ہیں یعنی ہر خوف مصیبت نہیں ہوتا اور ہر مصیبت خوف نہیں ہوتی ۔ جیسے اللہ پاک کا خوف اِنسان کے لیے نعمت ہے مصیبت نہیں ۔ بعض اوقات خوف اور مصیبت ایک ساتھ جمع بھی ہو جاتے ہیں جیسے کسی دُنیوی چیز یا دُشمن کا خوف کہ یہ خوف بھی ہے اور مصیبت بھی ۔ بہرحال مصیبت کے وقت حدیثِ پاک میں بیان کردہ اس دُعا کو پڑھنے کا معمول بنانا چاہیے ۔ چنانچہ اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : میں نے رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ جس مسلمان پر کوئی مصیبت آئے اور وہ اللہ پاک کے حکم کے مُطابق ( اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ ) پڑھے ( اور یہ دُعا کرے )” اَللّٰہُمَّ اَجِرْ نِیْ فِیْ مُصِیْبَتِیْ وَاَخْلِفْ لِیْ خَیْرًا مِّنْہَا( یعنی اے اللہ!میری اِس مصیبت پر مجھے اَجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما ) تو اللہ پاک اس کو اس سے بہتر بدل عطا فرمائے گا ۔ حضرتِ سَیِّدَتُنا اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں : جب حضرتِ سَیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فوت ہو گئے تو میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں حضرتِ سَیِّدُنا ابو سلمہ رَضِیَ اللّٰہُ