Brailvi Books

قسط 11: ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے ؟
32 - 39
 والا مسئلہ نہ رہے  یعنی گھی کو گھی کے ساتھ، شہد کو شہد کے ساتھ  اور تیل کو تیل  کے  ساتھ پاک کیا جائے ۔   
اگر ناپاک شہد زیادہ مِقدار میں ہو تو ایک ساتھ سارا شہد پاک کرنے کے بجائے تھوڑا تھوڑا کر کے پاک کیا جائے تاکہ نادانستہ طور پر  ناپاک شہد کا قطرہ پاک شہد میں چلا بھی جائے تو اسے دوبارہ پاک کرنا آسان ہو ۔ اگر  ایک ہی دفعہ میں سارا شہد پاک کرنے کی کوشش کی گئی تو آزمائش ہو سکتی ہے ۔  ( اِس موقع پر رُکنِ شُوریٰ نے  فرمایا :   )تھوڑا تھوڑا پاک کرنے میں یہ بھی آسانی ہے کہ اِبتداءً پاک شہد زیادہ مِقدار میں نہیں لینا پڑے گا بلکہ شروع میں پاؤ بھر بھی لیا تو  کافی ہو گا ۔  کیونکہ اس ایک پاؤ شہد  سے ایک پاؤ  ناپاک شہد پاک ہو گا، اب اس کے پاس آدھا کلو پاک شہد ہوگا اور یوں تھوڑا تھوڑا  کر کے سارا شہد پاک ہو جائے گا ۔   
( امیرِاہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہنے فرمایا :   ) اگر کوئی  پانی کے ذَریعے پاک کیے ہوئے  شہد کو فروخت کرنا چاہے تو خریدار کو بتانا ضَروری ہو گا کہ اس میں پانی مِلا ہوا ہے یا میں نے اس کو پانی سے پاک کیا تھا اور اس پانی کو بھاپ بناکر اُڑا دیا ہے ۔  شہد وغیرہ پاک کرنے کے لیے جو دھار کے ذَریعے شہد مِلانے کا طریقہ بیان کیا گیا ہے اِسی انداز سے پاک شہد مِلانا ضَروری ہے ۔  یہ نہیں ہو سکتا کہ ڈھائی کلو ناپاک شہد میں ڈھائی کلو پاک شہد مِلادیا جائے ، کیونکہ اِس طرح وہ سارا شہد ناپاک ہو جائے گا ۔ نیز بیان کردہ طریقے کے مُطابق ہر بہنے والی چیز