ناپاک شہد ڈالیں، دوسرے میں پاک پانی ڈالیں اور تیسرے برتن کو خالی چھوڑ دیں ۔ اب پانی اور شہد والے برتن کو خالی برتن میں اِس طرح اُنڈیلیں کہ پہلے پانی کی دھار گرے پھر شہد کی دھار پانی کی دھار سے مِل کر اس برتن میں گِرے اِس طرح بَرتن میں گرنے والا سارا شہد پاک ہو جائے گا ۔ اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ ناپاک شہد کی دھار پاک پانی کی دھار کے برابر رہے اور ناپاک شہد کا ایک قطرہ بھی اس سے جُدا ہوکر پاک شہد والے برتن میں نہ گِرے ورنہ اس میں موجود سارا شہد اور پانی ناپاک ہو جائے گا ۔ جب کوئی چیز اس انداز سے پاک کرنی ہو تو پہلے اس کی خوب مَشق کر لی جائے تاکہ غَلَطی کا اِمکان کم سے کم رہے ۔
شہد کو پانی سے پاک کرنے کے بعد اس میں موجود پانی کو ختم کرنا چاہیں تو اس شہد کو خوب پکا کر جوش دے لیں اِس طرح پانی بھاپ بن کر اُڑ جائے گا ۔ اگر شہد کا پانی ختم نہ بھی کریں تو کوئی حَرج نہیں، کیونکہ شہد پانی کے ساتھ مِلاکر ہی پیتے ہیں خالِص شہد بہت کم اِستعمال کیا جاتاہے ۔ اَلبتہ پانی مِلنے کے بعد شہد کو رکھا نہ جائے بلکہ اِستعمال کر لیا جائے کیونکہ پانی مِلنے کے بعد شہد جلد خَراب ہو جاتا ہے ۔ یوں ہی جب شہد میں سے پانی جُدا کرنے کے لیے اس کو جوش دیا گیا ہو تو یہ شہد پک چکا ہو گا اس کو فوراً اِستعمال کر لیا جائے یا لوگوں میں تقسیم کر دیا جائے ، کیونکہ شہد پکنے کے بعد جلد خَراب ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ شہد یا کوئی بھی بہنے والی چیز پاک کرنی ہو تو اسی کی جنس سے پاک کی جائے تاکہ پانی