Brailvi Books

قسط 11: ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے ؟
29 - 39
 شریف عِراق میں واقع آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مَزار شریف میں دَفن ہے جبکہ سَرِ اَنور کے  بارے میں مختلف رِوایات ہیں ۔ بعض رِوایات میں ہے کہ یزیدیوں نے  آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سَرِ اَنور کو نیزے پر پِھرایا اور پھر جسمِ مُقَدَّس کے ساتھ دَفن کر دیا ۔ اِسی طرح بعض رِوایات میں ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے سَرِ اَنور کو جنَّتُ البقیع میں خاتونِ جنَّت حضرتِ سَیِّدَتُنا بی بی فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے قُرب میں دَفن کیا گیا ۔ ( 1 )              
”فُلاں کام میں کر دُوں گا باقی اللہ مالِک ہے “کہنا کیسا؟
سُوال :  ” فُلاں کام مىں کردُوں گا باقى اللہ مالِک ہے “کہنا کیسا ہے ؟
جواب :  اس طرح کہنے میں کوئی حَرج نہیں ۔ اس کا مَطلب یہ نہیں کہ جو میں کروں گا اس کا اللہ مالِک نہیں ہے بلکہ یہ  اس معنیٰ میں ہے کہ فُلاں کام کرنے کی  کوشش میری طرف سے اور تکمیلاللہ پاک  کی طرف سے ہو گی  جیسا کہ ہم کہتے ہیں کہ نیکی کی دعوت دینا ہمارا  کام ہے اور ہدایت اللہ پاک دے گا ۔  چونکہ ہر شے کا مالِک اللہ پاک  ہے ۔  اگر کوئی اپنے قلم کے بارے میں کہے کہ قلم   میرا ہے تو اس کا مَطلب یہ نہیں ہوتا کہ اللہ پاک اس کا مالِک نہ رہا بلکہ اس کا حقیقی مالِک اللہ پاک ہی ہے اور اللہ پاک نے اسے عطا کیا ہے ۔ اِسی طرح یہ بھی بطورِ محارہ کہا جاتا ہے کہ ”فُلاں کام میں کردُوں گا  باقی اللہ مالِک ہے “ لہٰذا یہ مُحاورہ بولنے 



________________________________
1 -    شامِ کربلا، ص ۲۴۶ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور