Brailvi Books

قسط 11: ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے ؟
26 - 39
 ہرگز نہ چھوڑے کیونکہ اس وقت ماں باپ کو بھی اَولاد کی ضَرورت ہوتی ہے ۔     
ناراضی کی حالت میں والدین کا اِنتقال ہو جائے تو...؟
سُوال :  اگر اَولاد نے اپنے والدین میں سے کسی ایک  کے ساتھ روٹھنے والا اَنداز اِختیار کیا اور اِس دَوران اُس کا اِنتقال ہو گیا تو اَب اَولاد کو کیا کرنا چاہیے ؟ 
جواب :  ایسی صورت میں اَولاد وہی کام کرے جس کا شریعت نے حکم دیا ہے ۔  اُن کے لیے غسل اور تجہیز و تکفین کا اِنتظام، دُعائے مَغفرت اور اِیصالِ ثواب کرے ۔ 
ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے ؟ 
سُوال :   باپ اگر بچوں کے سامنے اُن کی  ماں کو مارے تو ایسی صورت میں اَولاد کو کیا کرنا چاہیے ؟    
جواب :  باپ اگر بچوں  کے  سامنے اُن کی ماں کو مارے تو اُنہیں صبر کرنا چاہیے ۔  نیز ایسی صورت میں بچوں کو چاہیے کہ باپ کا گریبان پکڑ کر مار دھاڑ کرنے کے بجائے  حِکمتِ عملی اور نرمی  سے ماں اور باپ دونوں میں صُلح کروائیں اور رِشتہ داروں کوبیچ میں ڈال کر ماں کو ظُلم سے بچائیں ۔  اس کے ساتھ ساتھ ماں کو باپ کی مار سے بچانے کے لیے جائز  طریقے بھی  اپنائیں مثلاً باپ جب ماں کو مارنے لگے تو بیچ میں آڑے آ جائیں یا باپ کو پکڑ لیں اور کہیں کہ ہم آپ کو مارنے نہیں دیں گے وغیرہ  ۔ یاد رَکھیے ! بچے جائز طریقوں سے تو اپنی ماں کو باپ کے ظُلم سے بچا سکتے ہیں مگر انہیں اپنے باپ کو اس طرح کی دَھمکیاں دینے کی ہرگز اِجازت نہیں کہ