ہے ماں باپ کے نافرمان کو دُنیا ہی میں سزا دے دی جاتی ہے ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ مُعاشرے میں ایسے قابلِ تحسین بچے بھی ہیں جو ماں باپ میں علیٰحَدگی ہونے کے بعد فَساد سے بچنے کے لیے ماں سے چُھپ چُھپ کر باپ کی مالی مدد کرتے اور عِلاج مُعَالجے کے اَخراجات اُٹھاتے ہیں ۔ ماں کو بھی چاہیے کہ اگر طَلاق وغیرہ ہو جائے تو دِل بڑا رکھے اور اَولاد کو باپ کی نافرمانی کے گناہ پر نہ اُبھارے بلکہ ہو سکے تو اَولاد کو یہ سمجھائے کہ میرے اور تمہارے والِد کے دَرمیان جو کچھ ہوا اس سے صَرفِ نظر کرو اور میری بھی خِدمت کرو اور اپنے باپ کا بھی خیال رکھو ۔ اگر اَولاد نے ماں یا باپ میں سے کسی پرظُلم کیا ہے تو قدموں میں پڑ کر معافی مانگے اور اللہ پاک سے توبہ بھی کرے ۔ اکثر و بیشتر معاملہ طَلاق تک نہیں پہنچتا اور ماں باپ لڑ جھگڑ کر الگ ہو جاتے ہیں ایسی صورت میں اَولاد کو چاہیے کہ والدین میں صُلح کروا دے کہ قرآنِ پاک میں ہے : ( وَ الصُّلْحُ خَیْرٌؕ ) ( پ۵، النسآء : ۱۲۸ )ترجمۂ کنز الایمان : ”صلح خوب ہے ۔ “ اور اگر صُلح نہ ہو پائے تو دونوں کی خِدمت کرے اور ایسا ہرگز نہ ہو کہ ایک کی خِدمت کرے اور دوسرے کو چھوڑ دے ۔ جس طرح ماں باپ اَولاد کو بچپن میں بستر گندا کرنے اور شرارتیں کر کے گھر کے برتن توڑنے کے باوجود چھوڑ نہیں دیتے کیونکہ اس وقت اَولاد کو ماں باپ کی ضَرورت ہوتی ہے اِسی طرح اَولاد کو بھی چاہیے کہ جب وہ بڑی ہو جائے تو ماں باپ سے وفا کرے اور انہیں