Brailvi Books

قسط 11: ماں باپ لڑیں تو اَولاد کیا کرے ؟
22 - 39
ذَریعہ بن سکتا ہے ۔ 
جنتی جنَّت میں عُلَما کے مُحتاج ہوں گے 
سُوال :  بعض لوگ خواہ مخواہ عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو بُرا بھلا کہتے ہیں، ایسوں کو کیسے سمجھایا جائے ؟ (1  )
جواب :  عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو بُرا بھلا کہنے والے لوگ بہت بُرے ہوتے ہیں ۔ ایسوں کے سائے سے بھی بچنا چاہیے ۔ اگر کسی ایک عالِمِ دِین سے کوئی غَلَطی ہو گئی تو اس کا ہرگز یہ مَطلب نہیں سارے ہی عُلَمائے کِرام کو ہَدفِ تنقید بنا لیا جائے ۔  عالِم اپنے عِلم کے سبب عام لوگوں سے دَرجے میں بڑا ہوتا ہے  ۔ عِلم اللہ  پاک کی صِفت ہے کہ وہ اپنی شایانِ شان عالِم ہے اب اس نے اپنے بندوں میں سے جس کو بھی عِلم کا وَصف دیا تو  وہ اللہ پاک کی اس صِفت کا مظہر ہے ۔  قرآن و اَحادیث میں عُلَمائے کِرام  کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے باکثرت فَضائِل وارد ہوئے ہیں چنانچہ اِرشاد رَبّانی ہے  :  ( قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَ الَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَؕ- ) ( پ۲۳، الزمر :  ۹ ) ترجمۂ کنز الایمان :  ”تم فرماؤ کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان ۔ “آج یہ بے باک لوگ بھلے عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو مولوی یا مُلّا کہہ کر ان کا  رُتبہ گھٹانے  کی کوشش کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ عُلَما کی اَہمیت کبھی بھی کم



________________________________
1 -    یہ سُوال شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ کی طرف سے قائم کیا گیا ہے جبکہ جواب امیر اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا عطا فرمودہ  ہی  ہے ۔  ( شعبہ فیضانِ مَدَنی مذاکرہ )