نہیں ہو سکتی اس لیے کہ ہر ایک دُنیا میں بھی عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کا مُحتاج ہے اور جنَّت میں جانے کے بعد بھی مُحتاج رہے گا جیساکہ مُعَلِّم کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : بے شک جنَّتی جنَّت میں عُلَما کے مُحتاج ہوں گے ۔ وہ یوں کہ ہر جمعہ کو انہیں اللہ پاک کا دِیدار نصیب ہو گا، اللہ پاک فرمائے گا : جو جی میں آئے مجھ سے مانگو! ( اب جنَّت سے مکان میں جا کر کون سی حاجت باقی ہے کچھ سمجھ میں نہ آئے گا کہ کیا مانگیں؟چنانچہ ) عُلَما کی طرف متوجہ ہوں گے کہ ہم اپنے ربّ سے کیا مانگیں؟ وہ فرمائیں گے : اپنے ربّ سے یہ مانگو وہ مانگو ۔ تو لوگ جنَّت میں بھی عُلَما کے مُحتاج ہوں گے جیسے وہ دُنیا میں ان کے مُحتاج ہیں ۔ ( 1)
یاد رہے کہ یہ سارے فَضائِل ان عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے ہیں جو سُنّی صحیحُ العقیدہ ہیں ۔ عاشقانِ رَسُول ، عاشقانِ صَحابہ و اہلِ بىت اور عاشقانِ اَولىا ہیں اور یہی حقیقی معنوں میں عُلَما ہیں ۔ باقی رہے بَدمذہب مولوی تو ان کی کوئی فضیلت نہیں اور نہ ہی ان کی تعظیم و توقیر کی جائے گی ۔ قرآن و اَحادیث میں بیان کردہ فَضائل میں ان کا کوئی حصّہ نہیں ۔ عِلم ہو اور عقیدہ دُرُست نہ ہو تو ایسا عِلم تو شیطان کو بھی حاصِل ہے بلکہ وہ اتنا بڑا عالِم ہے کہ مُعَلِّمُ الْمَلَکُوْت یعنی فرشتوں کا اُستاد بھی رہ چکا ہے ، انہیں وَعظ ونصیحت کرتا تھا
________________________________
1 - فردوس الاخبار، باب الالف، فصل حکایة عن الانبیاء علیھم السلام، ۱ / ۱۳۸، حدیث : ۸۷۸