فوت شدہ والدین کو کیسے راضی کیا جائے ؟
سُوال : جو اولاد اپنے والدین کو زندگی میں راضی نہ کر سکے وہ ان کی وفات کے بعد کو ن سا ایسا عمل کرے جس سے ان کے والدین ان سے راضی ہوجائیں؟
جواب : جن کے والدین ناراضی کی حالت میں اِنتقال کر گئے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اپنے والدین کے لیے بکثرت دُعائے مَغفرت کریں کیونکہ فوت شدگان کے لیے سب سے بڑا تحفہ دُعائے مَغفرت ہے ۔ چنانچہ اللہ پاک کے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : کسی کے ماں باپ دونوں یا ایک کا اِنتقال ہو گیا اور یہ ان کی نافرمانی کرتا تھا ، اب ان کے لیے ہمیشہ اِستغفار کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ اللہ پاک اس کو نیکوکار لکھ دیتا ہے ۔ (1 ) نیز اولاد کو چاہیے کہ اپنے والدین کے لیے دُعائے مغفرت کے ساتھ ساتھ فاتحہ خوانی یا دُرُود شریف وغیرہ پڑھ کر کثرت سے اِیصالِ ثواب کا سلسلہ جاری رکھے کہ جب اولاد کی طرف سے انہیں خوب اِیصالِ ثواب پہنچے گا تو اللہ پاک کی رَحمت سے اُمّید ہے کہ وہ اپنی اولاد سے راضی ہو جائیں گے ۔ اپنے والدین اور دِیگر عزیز و اقارب کے اِیصالِ ثواب کی نیت سے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ مَدَنی رَسائل بھی تقسیم کیے جا سکتے ہیں ۔ نیز اگر کوئی اپنے والدین یا دِیگر عزیز و اقارب کے اِیصالِ ثواب کے
________________________________
1 - شعب الإیمان،باب فی بر الوالدین،فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتھما،۶/۲۰۲ حدیث: ۷۹۰۲ دار الكتب العلمية بيروت