بِغیرجا سکتا ہے ۔ لہٰذا جو شخص مَکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں بغیر اِحرام جانا چاہتا ہو وہ حیلہ کر سکتا ہے بشرطیکہ واقِعی اُس کا اِرادہ پہلے مَثَلاً جَدَّہ شریف جانے کا ہو اور مَکَّۂ مُعَظَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً حج و عمرے کے اِرادے سے نہ جاتا ہو ۔ مَثَلاً تجارت کے لئے جَدَّہ شریف جاتا ہے اور وہا ں سے فارِغ ہو کر مکَّۂ مُکَرَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا اِرادہ کیا ۔ اگر پہلے ہی سے مکّہ پاک زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کا اِرادہ ہے تو بغیر اِحرام نہیں جا سکتا ۔
مسجد بنانے کی فضیلت
سُوال : مسجد بنانے کی کیا فضیلت ہے ؟
جواب : مسجد بنانا صَدَقۂ جاریہ ہے ۔ مسجد بنانے والے کو جنَّت میں عالی شان محل عطا کیا جائے گا ۔ (1 ) مسجد بنانے والے کو ملنے والے ثواب کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ مسجد قِیامت تک کے لیے مسجد ہوتی ہے اور جس نے مسجد بنائی ہو گی اُسے قِیامت تک اس کا ثواب ملتا رہے گا ۔ لہٰذا جو مُخَیَّر حضرات ہیں انہیں چاہیے کہ اپنی زِندگی میں کم ازکم ایک مسجد ضَرور بنائیں جو ان کے لیے صَدَقۂ جاریہ ہو سکے ۔ مسجد بنانے کے لیے ضَروری نہیں کہ کروڑوں روپے خَرچ کر
________________________________
1 - نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے:جو شخص اللہ پاک کی رضاکے لیے مسجد بنائے تو اللہ پاک اس کے لیے جنت میں محل بنائے گا۔ ( مسلم،کتاب المساجد و مواضع الصلوة،باب فضل البناء المساجد و الحث علیھا،ص۲۱۴، حدیث:۱۱۹۰ دار الکتاب العربی بیروت)