چپل جس سے پاؤں کا اُبھرا ہوا حِصّہ چھپ جائے پہننا ناجائز ہے ۔ مَرد حالتِ اِحرام میں ہوائی چپل پہنیں کہ اس سے پاؤں کا اُبھرا ہوا حِصّہ نہیں چھپتا ۔ عورتیں حَسبِ معمول جو لباس پہنتی ہیں یہی ان کا اِحرام ہے البتہ اِحرام کی حالت میں عورتوں کو یہ خیال رکھنا ہو گا کہ چہرے پر کپڑا نہ آنے پائے ۔ اگر عورتیں چاہیں تو عوام کی موجودگی میں چہرہ چھپانے کے لیے کسی کتاب یا گتے وغیرہ کو سامنے رکھ سکتی ہیں ۔ مَرد حالتِ احرام میں سِلی ہوئی چادر اور کمبل اُوڑھ سکتے ہیں کیونکہ اُوڑھنے اور پہننے میں فرق ہے ۔
رہی بات انگوٹھی کی تو مَردوں کے لیے حالتِ اِحرام میں انگوٹھی پہننا جائز ہے ۔ اگر انگوٹھی پہننی ہو تو مَرد کے لیے صِرف چاندی کی ایک انگوٹھی کی اِجازت ہے جس کا وزن ساڑھے چار ماشے ( یعنی چار گرام 374 مِلی گرام ) سے کم ہو اور اس میں نگینہ بھی ایک ہو ۔
جَدَّہ شریف جانے کیلئے اِحرام باندھنا ضَروری نہیں
سُوال : جس طرح میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے مکۂ مکرمہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً میں داخل ہونے کے لیے اِحرام باندھنا ضَروری ہوتا ہے ، کیا اسی طرح جَدَّہ شریف میں داخلے کے لیے بھی اِحرام باندھنا ضَروری ہے ؟
جواب : اگر نیَّت ہی جَدَّہ شریف جانے کی ہے تو اب اِحرام کی حاجت نہیں بلکہ اب جَدَّہ شریف سے مَکَّۂ مُعَظَّمَہ زَادَہَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً بھی جانا ہو جائے تو اِحرام کے