جواب : حج کے شکرانے کے طور پر کی جانے والی قربانی کی اِستطاعت نہ ہونے اور روزے رکھنے کے متعلق اَحکام بیان کرتے ہوئے صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : قارِن کو اگر قربانی میسر نہ آئے کہ اس کے پاس ضَرورت سے زیادہ مال نہیں ، نہ اتنا اَسباب کہ اُسے بیچ کر جانور خریدے تو دس روزے رکھے ۔ ان میں تین تو وہیں یعنی یکم شوال سے ذی الحجہ کی نویں تک اِحرام باندھنے کے بعد رکھے ، خواہ سات ، آٹھ ، نو ، کو رکھے یا اس کے پہلے اور بہتر یہ ہے کہ نویں سے پہلے ختم کر دے اور یہ بھی اِختیار ہے کہ متفرق طور پر رکھے ، تینوں کا پے درپے رکھنا ضَرور نہیں اور سات روزے حج کا زمانہ گزرنے کے بعد یعنی تیرھویں کے بعد رکھے ، تیر ھویں کو یا اس کے پہلے نہیں ہو سکتے ۔ ان سات روزوں میں اِختیار ہے کہ وہیں رکھے یا مکان واپس آکر اور بہتر مکان پر واپس ہو کر رکھناہے اور ان دسوں روزوں میں رات سے نیت ضَرور ہے ۔ اگر پہلے کے تین روزے نویں تک نہیں رکھے تو اب روزے کافی نہیں بلکہ دَ م واجب ہوگا ، دَم دے کر اِحرام سے باہر ہو جائے اور اگر دَم دینے پر قادِر نہیں تو سر مونڈا کر یا بال کتروا کر اِحرام سے جُدا ہو جائے اور دو دَم واجب ہیں ۔ قادِر نہ ہونے کی وجہ سے روزے رکھ لیے پھر حلق سے پہلے دَسویں کو جانور مل گیا ، تو اب وہ روزے کافی نہیں لہٰذا قربانی کرے اور حلق کے بعد جانور پر قدرت ہوئی تو وہ روزے کافی