Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
9 - 24
 ٹوکا اور کہا کہ میرا بچّہ رات بھر نہیں  سویا ابھی ابھی آنکھ لگی ہے آپ لوگ میگا فون بند کر دیجئے۔ہم کو ان صاحِب پر بڑا غصّہ آیا کہ نہ جانے کیسا مسلمان ہے ، ہم نَماز کیلئے جگا رہے ہیں  اور یہ اِس نیک کام میں  رُکاوٹ ڈال رہا ہے! خیر دوسرے دن ہم پھر صدائے مدینہ لگاتے ہوئے اُس طرف جانکلے تو وُہی صاحِب پہلے سے گلی کے نُکَّڑ پر غمزدہ کھڑے تھے اور ہم سے کہنے لگے : آج بھی بچّہ ساری رات نہیں  سویا ابھی ابھی آنکھ لگی ہے اِسی لئے میں  یہاں  کھڑا ہو گیا تا کہ ہماری گلی سے خاموشی سے گزرنے کی آپ حضرات کی خدمات میں  درخواست کروں۔ اِس سے معلوم ہوا کہ بِغیر میگا فون کے صدائے مدینہ لگائی جائے ۔ نیز بِغیر میگا فون کے بھی اس قَدَر بُلند آوازیں  نہ نکالی جائیں  جس سے گھر وں  میں  نَماز و تلاوت میں  مشغول اسلامی بہنوں ،ضعیفوں  ، مریضوں  اور بچّوں  کو تشویش ہو یا جو اوّل وقت میں  پڑھ کر سو رہا یا سو رہی ہو اُس کی نیند میں خلل پڑے۔ اور اگر کوئی مسلمان اپنے گھر کے پاس صدائے مدینہ لگانے سے روکے تو اُس سے ضدبحث کرنے کے بجائے اُس سے مُعافی مانگ لی جائے اور اس پرحُسنِ ظن رکھا جائے کہ یقینا کوئی مسلمان نَماز کیلئے جگانے کا مخالف نہیں  ہو سکتا، اس بچارے کی کوئی مجبوری ہو گی۔ بِالفرض وہ بے نَمازی ہو تو بھی آپ اُس پر سختی کرنے کے مَجاز نہیں ، کسی مناسب وَقت پر انتِہائی نرمی کے ساتھ انفِرادی کوشِش کے ذَرِیعے اُس کو نَماز کیلئے آمادہ کیجئے ۔ مساجِد میں  بھی اذانِ فَجر وغیرہ کے علاوہ بے موقع نیز مَحَلّوں یا مکانوں  کے اندر محافِلِ نعت وغیرہ میں  اسپیکر استِعمال کرنے والوں  کو بھی اپنے اپنے