گھروں میں عبادت کرنے والوں ، مریضوں ، شیر خوار بچّوں اور سونے والوں کی ایذا کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے ۔
حُقُوقِ عامّہ کے اِحساس کی حکایت
حقوقِ عامّہ کا خیال رکھنا بَہُت ضَروری ہے، ہمارے اَسلاف اس مُعامَلے میں بے حدمُحتاط ہوا کرتے تھے۔ چُنانچِہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرت ِسیِّدُنا امام محمد بن محمد بن محمد غَزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی فرماتے ہیں :حضرتِ سیِّدُنا امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ کی خدمت میں ایک شخص کئی سال سے حاضِر ہوتا اور علم حاصِل کرتا۔ ایک بار جب آیا تو آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ نے اُس سے مُنہ پَھیر لیا۔ اُس کیبَاِصرار استِفسار پر فرما یا: اپنے مکان کی دیوار کے سڑک والے کونے پرگارا لگا کر قدِ آدم ( یعنی انسانی قد )کے برابراس (کونے)کو تم نے آگے بڑھا دیا ہے حالانکہ وہ مسلمانوں کی گزر گاہ ہے۔یعنی میں تم سے کیسے خوش ہوسکتا ہوں کہ تم نے مسلمانوں کا راستہ تنگ کر دیا ہے! (اِحیائُ الْعُلوم ج۵ص۹۶مُلَخَّصاً)یہاں وہ لوگ بھی عبرت حاصِل کریں جو اپنے گھروں کے باہَرایسے چبوترے وغیرہ بنا دیتے ہیں جس سے مسلمانوں کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جلد سے جلد قَضا پڑھ لیجئے
جس کے ذمّے قضا نَمازیں ہوں اُن کا جلد سے جلد پڑھنا واجِب ہے مگر بال بچّوں