میں خرچ کرنا چاہیں تو اِس کا طریقہ یہ ہے کہ فقیر کو ( زکوٰۃ کی رقم کا ) مالِک کردیں اور وہ ( تعمیرِ مسجِد وغیرہ میں )صَرف کرے، اس طرح ثو اب دونوں کو ہو گا ۔ (بہارِ شریعت ج ۱ ص ۸۹۰ )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے!کفن دَفن بلکہ تعمیرِ مسجِد میں بھی حیلۂ شرعی کے ذَرِیعے زکوٰۃ ا ستِعمال کی جاسکتی ہے کیونکہ زکوٰۃ تو فقیر کے حق میں تھی جب فقیر نے قَبضہ کر لیا تواب وہ مالِک ہوچکا، جو چاہے کرے۔ حیلۂ شَرعی کی بَرَکت سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا ہو گئی اور فقیر بھی مسجِد میں دیکر ثواب کا حقدار ہو گیا ۔ فقیرِشَرعی کو حِیلے کا مسئلہ بے شک سمجھا دیا جائے۔
فقیر کی تعریف
فقیر وہ ہے کہخ جس کے پاس کچھ نہ کچھ ہو مگر اتنا نہ ہوکہ نِصاب کو پَہنچ جائے یا خ نصاب کی قَدَر توہو مگر اس کی حاجتِ اَصلِیّہ (یعنی ضَروریاتِ زندگی) میں مستغرق (گِھراہوا ) ہو۔مَثَلاً رہنے کا مکان ، خانہ داری کا سامان، سُواری کے جانور( یا اسکوٹر یا کار)، کاریگروں کے اَوزار، پہننے کے کپڑے، خِدمت کیلئے لونڈی ، غلام، عِلمی شُغل رکھنے والے کے لیے اسلامی کتابیں جو اس کی ضَرورت سے زائد نہ ہوں خ اِسی طرح اگر مدیون ( یعنی مقروض ) ہے اور دَین ( یعنی قرضہ) نکالنے کے بعدنِصاب باقی نہ رہے تو فقیر ہے اگر چہ اس کے پاس ایک تو کیا کئی نِصابیں ہوں ۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۹۲۴،رَدُّالْمُحتار ج۳ص۳۳۳وغیرہ)
مِسکین کی تعریف
مسکین وہ ہے جس کے پاس کچھ نہ ہو یہاں تک کہ کھانے اور بدن چُھپانے کیلئے اس