Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
22 - 24
عنھا) کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجِرہ (رضی اللہ تعالٰی عنھا)کے کان چَھید دیں  ۔ اُسی وَقت سے عورَتوں  کے کان چَھیدنے کا رَواج پڑا۔  (غَمزُعُیونِ الْبَصائِر لِلْحَمَوِی ج ۳ ص ۲۹۵)
گائے کے گوشت کاتحفہ
	اُمُّ الْمُؤمِنِین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائِشہ صِدّیقہ رضی اللہ تعالٰی عنھا سے رِوایت ہے کہ دو جہان کے سلطان ، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں  گائے کا گوشت حاضِر کیا گیا ،کسی نے عَرض کی: یہ گوشت حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رضی اللہ تعالٰی عنھا پر صَدَقہ ہوا تھا۔فرمایا :ھُوَ لَھَا صَدَقَۃٌ وَّلَنَا ھَدِیَّۃٌ یعنی یہ بَرِیرہ کے لیے صَدَقہ تھا ہمارے لیے ہدِیّہ ہے۔
				  	        ( مُسلِم ص۵۴۱حدیث۱۰۷۵) 
زکوٰۃ کا شَرعی حِیلہ
	اِس حدیثِ پاک سے صاف ظاہِر ہے کہ حضرتِ سَیِّدَتُنا بَرِیرہ رضی اللہ تعالٰی عنھا جو کہ صَدَقے کی حقدارتھیں  ان کو بطورِ صَدَقہ مِلا ہوا گائے کا گوشت اگر چِہ ان کے حق میں  صَدَقہ ہی تھا مگر ان کے قَبضہ کر لینے کے بعد جب بارگاہِ رسالت میں  پیش کیا گیا تھا تو اُس کا حکم بدل گیا تھا اور اب وہ صَدَقہ نہ رہا تھا ۔ یوں  ہی کوئی مستحق شَخص زکوٰۃ اپنے قَبضے میں  لینے کے بعد کسی بھی آدمی کو تحفۃً دے سکتا یا مسجِد وغیرہ کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ مذکورہ مستحق شخص کا پیش کرنا اب زکوٰۃ نہ رہا ، ہدیَّہ یا عَطِیَّہ ہو گیا ۔ فُقَہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلام زکوٰۃ کا شرعی حِیلہ کرنے کا طریقہ یوں  ارشاد فرماتے ہیں :زکوٰۃ کی رقم مرُدے کی تَجہیز وتکفین یا مسجِدکی تعمیر میں  صَرف نہیں  کر سکتے کہ تَملیکِ فقیر ( یعنی فقیر کو مالِک کرنا)نہ پائی گئی ۔ اگر ان اُمور