Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
21 - 24
 چُنانچِہ عالمگیری’’ کتابُ الْحِیَل‘‘ میں  ہے:’’ جو حِیلہ کسی کا حق مارنے یا اُس میں شُبہ پیدا کرنے یا باطِل سے فَریب دینے کیلئے کیا جائے وہ مکروہ ہے اور جوحِیلہ اس لئے کیا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے یا حلال کو حاصِل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حیلوں  کے جائز ہونے کی دلیل اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فر مان ہے : 
وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ  (پ۲۳، ص:۴۴)
 ترجَمۂ کنزالایمان:  اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں  ایک جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔					    (عالمگیری ج۶ص۳۹۰)
کان چَھید نے کا رَواج کب سے ہوا؟
     حیلے کے جواز پر ایک اور دلیل مُلا حَظہ فرمایئے چُنانچِہحضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس  رضی اللہ تعالٰی عنھما سے روایت ہے کہ ایک بارحضرت ِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا       ہاجرہ  رضی اللہ تعالٰی عنھما میں  کچھ چَپقَلَش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ  رضی اللہ تعالٰی عنھا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو میں  ہا جِرہ   رضی اللہ تعالٰی عنھا کا کوئی عُضو کاٹوں  گی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئیل عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکوحضرت سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں  بھیجا کہ ان میں  صُلح کروا دیں  ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ  رضی اللہ تعالٰی عنھا نے عرض کی : ’’ مَاحِیلَۃُ یَمِیْنِی؟ ‘‘ یعنی میری قسم کا کیا حِیلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراھیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر وَحی نازِل ہوئی کہ (حضرتِ )سارہ(رضی اللہ تعالٰی