Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
20 - 24
 سے سیّدوں  ا ورغیر مسلموں  کونَماز کا فدیہدینے  کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:یہ صَدَقہ( یعنی نماز کافِدیہ) حضراتِ ساداتِ کرام کے لائق نہیں  اور ہُنُود وغیرہُم کُفّارِ ہند اِس صَدَقے کے لائق نہیں۔ ان دونوں  کو دینے کی اَصلاً اجازت نہیں  ، نہ ان کے دیے ادا ہو۔ مسلمین مساکین ذَوِالقربیٰ غیر ہاشِمین(یعنی اپنے مسکین مسلمان رشتے دار غیر ہاشمیوں ) کو دینا دُونا(یعنی دُگنا) اَجر ہے۔					( فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۱۶۶)
100 کوڑوں  کا حیلہ
 	حِیلَۂشَرعی کا جواز قراٰن و حدیث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب میں  موجود ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی بیماری کے زمانے میں  آپ عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی زوجۂ محترمہ رضی اللہ تعالٰی عنھاایک بار خدمتِ سراپا عَظَمت میں  تاخیر سے حاضِر ہوئیں  تو آپ عَلَيْهِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے قسم کھائی کہ ’’میں  تندُرُست ہو کر سو کوڑے ماروں  گا‘‘ صِحّتیاب ہونے پر اللہ عَزَّوَجَلَّنے انہیں  سو تیلیوں  کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ (نور العرفان ص ۷۲۸ مُلَخّصاً) للہ تبارَکَ وَ تَعالٰیپارہ 23 سُورَۃُ  صٓکی آیت نمبر44میں  ارشاد فرماتا ہے:
وَ خُذْ بِیَدِکَ ضِغْثًا فَاضْرِبۡ بِّہٖ وَلَا تَحْنَثْ ؕ   (پ۲۳، ص:۴۴)
 ترجَمۂ کنزالایمان:  اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں  ایک جھاڑو لے کر اِس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔
’’ عالمگیری ‘‘ میں حِیلوں  کاایک مُستقِل باب ہے جس کا نام ’’کتابُ الْحِیَل‘‘ ہے