Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
17 - 24
وغیرہ اتنی تاخیر کی کہ سِتارے گُتھ گئے تو مکروہِ تَحریمی۔          (بہارِ شریعت ج ۱ ص ۴۵۳)
   سرکار اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت ،مولاناشاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن  فرماتے ہیں : اِس( یعنی مغرِب) کا وَقتِ مُستَحب جب تک ہے کہ ستارے خوب ظاہِر نہ ہو جائیں  ، اتنی دیر کرنی کہ(بڑے بڑے ستاروں  کے علاوہ) چھوٹے چھوٹے ستارے بھی چمک آئیں  مکروہ ہے ۔  (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۵ص۱۵۳)عصروعشاء سے پہلے جو رَ کْعَتیں  ہیں  وہ  سُنَّتِ غیرمُؤَکَّدہ ہیں  ان کی قَضا نہیں  ۔
تراویح کی قَضا کا کیا حُکْم ہے؟
	جب تَراویح فوت ہو جائے تو اُس کی قَضا نہیں ، نہ جماعت سے نہ تنہا اور اگر کوئی قَضا پڑھ بھی لیتا ہے تو یہ جُدا گانہ نَفل ہو جائیں  گے، تراویح سے ان کا تعلُّق نہ ہوگا۔			(تَنوِیرُ الْاَبصار ودُرِّمُختار ج۲ص۵۹۸)
نَماز کا فِد یہ
جن کے رِشتے دارفوت ہوئے ہوں وہ
اِس مضمون کا ضَرورمطالَعَہ فرمائیں
       میِّت کی عمر معلوم کر کے اِس میں  سے نوسال عورت کیلئے اور بارہ سال مَرد کیلئے نابالِغی کے نکال دیجئے ۔ باقی جتنے سال بچے ان میں  حساب لگائیے کہ کتنی مدّت تک وہ (یعنی مرحوم) بے نَمازی رہا یا بے روزہ رہا، یا کتنی نَمازیں  یا روزے اس کے ذمّے قضا کے باقی ہیں  ۔ زِیادہ