ظہر کی چار سنّتیں رہ جائیں تو کیا کرے؟
اگرظُہر کے فرض پہلے پڑھ لئے تو دو رَکْعَت سنّتِ بعدِیہ ادا کر نے کے بعد چار رَکعَت سنّتِ قبلِیہ ادا کیجئے چُنانچِہ سرکارِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰن فرماتے ہیں :ظہر کی پہلی چار سنّتیں جو فرض سے پہلے نہ پڑھی ہوں تو بعدِ فرض بلکہ مذہبِ اَرجَح (یعنی پسندیدہ ترین مذہب) پر بعد (دو رکعت) سنّتِ بَعدِ یہ کے پڑھیں بشرطیکہ ہُنُوز(یعنی ابھی) وقتِ ظُہر باقی ہو۔ (فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۱۴۸)
فَجر کی سُنّتیں رَہ جائیں تو کیا کرے؟
سنّتیں پڑھنے سے اگر فَجر کی جماعت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو بِغیر پڑھے شامِل ہو جائے۔ مگر سلام پھیرنے کے بعد پڑھنا جائز نہیں۔ طلوعِ آفتاب کے کم از کم بیس مِنَٹ بعد سے لیکرضَحوۂ کُبرٰیتک پڑھ لے کہ مُستَحَب ہے۔ اس کے بعد مُستَحَب بھی نہیں۔
کیا مغرِب کاوقت تھوڑا سا ہوتا ہے؟
مغرِب کی نَماز کا وقت غُروبِ آفتاب تا ابتِدائے وقتِ عشاء ہوتا ہے ۔ یہ وقت مقامات اور تاریخ کے اعتبار سے گھٹتا بڑھتا رَہتا ہے مَثَلاً بابُ المدینہ کراچی میں نظام ُالاوقات کے نقشے کے مطابِق مغرِب کا وَقت کم از کم ایک گھنٹہ 18 مِنَٹ ہوتا ہے۔فقہائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلامفرماتے ہیں : روزِاَبر (یعنی جس دن بادل چھائے ہوں اس )کے سوا مغرِب میں ہمیشہ تعجیل ( یعنی جلدی) مُستَحَب ہے اور دو رَکعَت سے زائد کی تاخیر مکروہِ تنزیہی اور اگر بِغیر عُذر سفر و مرض