سے زِیادہ اندازہ لگالیجئے بلکہ چاہیں تو نابالِغی کی عمر کے بعد بقیّہ تمام عمر کا حساب لگا لیجئے ۔ اب فی نَماز ایک ایک صَدَقۂ فِطر خیرات کیجئے ۔ ایک صَدَقۂ فِطر کی مقدار 2کلو سے80گرام کم گیہوں یا اس کا آٹا یا اس کی رقم ہے ۔اور ایک دن کی چھ نَمازیں ہیں پانچ فرض اور ایک وتر واجب ۔ مَثَلاً 2کلو سے80گرام کم گیہوں کی رقم 12روپے ہو تو ایک دن کی نمازوں کے 72 روپے ہوئے اور30دن کے 2160روپے اور بارہ ماہ کے تقریباً 25920روپے ہوئے۔ اب کسی میِّت پر50 سال کی نَمازیں باقی ہیں تو فِدیہ ادا کرنے کیلئے 1296000روپے خیرات کرنے ہوں گے ۔ظاہِر ہے ہر شخص اِتنی رقم خیرات کرنے کی اِستِطاعت( طاقت) نہیں رکھتا، اِس کیلئے عُلمائے کرام رَحمَہُمُ اللہُ السلام نے شَرعی حِیلہ ارشاد فر مایا ہے ۔مَثَلاً وہ30دن کی تمام نَمازوں کے فدیے کی نیّت سے 2160 روپے کسی فقیر ( فقیر اور مسکین کی تعریف صفحہ نمبر24 پر مُلاحَظہ فرمائیے) کی مِلک کردے، یہ30دن کی نَمازوں کا فِدیہ ادا ہو گیا ۔ اب وہ فقیر یہ رقم دینے والے ہی کو ہِبَہ کر دے( یعنی تحفے میں دیدے) یہ قبضہ کرنے کے بعد پھر فقیرکو 30 دن کی نَمازوں کے فِدیے کی نیّت سے قبضہ میں دے کر اس کا مالِک بنا دے ۔ اسی طرح لَوٹ پھیر کرتے رہیں یوں ساری نَمازوں کا فِدیہ ادا ہو جائے گا۔ 30 دن کی رقم کے ذَرِیعے ہی حیلہ کرنا شَرط نہیں وہ تو سمجھانے کیلئے مِثال دی ہے ۔باِلفرض 50سال کے فِدیوں کی رقم موجود ہو تو ایک ہی بارلَوٹ پھیر کرنے میں کام ہوجائے گا۔ نیز فِطرے کی رقم کا حساب گیہوں کے موجودہ بھاؤسے لگانا ہوگا۔ اِسی طرح فی روزہ بھی ایک صَدَقۂ فطر ہے۔ نَمازوں کا فِدیہ