قَضا نَمازیں نوافِل کی ادائیگی سے بہتر
’’ فتاوٰی شامی ‘‘میں ہے :قَضانَمازیں نوافِل کی ادائیگی سے بہتر اور اَ ہم ہیں مگر سُنَّتِمُؤَکَّدہ ،نَمازِ چاشْتْ،صَلٰوۃُ التَّسبِیحاوروہ نَمازیں جن کے بارے میں احادیث ِ مبارَکہ مروی ہیں یعنی جیسے تَحِیَّۃُ المسجِد ، عصْر سے پہلے کی چار رَکْعت(سُنَّتِ غیر مُؤَکَّدہ ) اور مغرِب کے بعد چھ رَکْعتیں ۔(پڑھی جائیں گی)(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۴۶) یاد رہے !قَضا نَما ز کی بِنا پر سُنَّتِمُؤَکَّدہ چھوڑنا جائز نہیں ، البتّہ سُنَّتِ غیرمُؤَکَّدہ اور حدیثوں میں وارِد شُدہ مخصوص نوافِل پڑھے تو ثواب کا حقدار ہے مگر انہیں نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں ،چاہے ذِمّے قضا نَماز ہو یا نہ ہو۔
فَجر و عَصر کے بعد نوافِل نہیں پڑھ سکتے
نَماز ِ فَجر اور عَصر کے بعد وہ تمام نوافِل ادا کرنے مکروہِ( تحریمی) ہیں جو قصداً ہوں اگر چِہ تَحِیّۃُ المسجِد ہوں ، اور ہر وہ نَماز(بھی نہیں پڑھ سکتے) جو غیر کی وجہ سے لازِم ہو مَثَلاً نَذر اور طواف کے نوافِل اور ہر وُہ نَماز جس کو شُروع کیا پھر اسے توڑ ڈالا ، اگر چِہ وہ فَجر اور عصر کی سنتّیں ہی کیوں نہ ہوں۔ (دُرِّمُختار ج۲ص۴۴۔۴۵)
قَضا کیلئے کوئی وقت مُعَیَّن نہیں عمر میں جب (بھی)پڑھے گابَرِیُّ الذِّمَّہ ہو جا ئے گا۔ مگر طلوع و غروب اورزوال کے وَقت نَمازنہیں پڑھ سکتا کہ ان وقتوں میں نَماز جائز نہیں۔ (بہارِ شریعت ج۱ص۷۰۲، عالمگیری ج۱ص۵۲)