Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
14 - 24
کرنے کیلئے یہ عُذْر (یعنی مجبوری)ہے ۔ بچّے کاسر باہَر آ گیا اور نفاس سے پیشتر وَقت خَتم ہو جائیگا  تو اس حالت میں  بھی اُس کی ماں  پرنَماز پڑھنا فرض ہے نہ پڑھے گی تو گنہگار ہو گی۔کسی برتن میں  بچّے کا سر رکھ کر جس سے اُس کونقصان نہ پہنچے نَماز پڑھے مگر اس ترکیب سے پڑھنے میں  بھی بچّے کے مر جانے کا اندیشہ ہو تو تاخیر مُعاف ہے ۔بعدِ نفاس اس نَماز کی قضا پڑھے۔(ایضاً ص ۶۲۷)
مریض کو نَماز کب مُعاف ہے؟
       ایسا مریض کہ اشارے سے بھی نَماز نہیں پڑھ سکتا اگر یہ حالت پورے چھ وقت تک رہی تو اِس حالت میں  جو نَمازیں  فوت ہوئیں  اُن کی قضا واجِب نہیں۔(عالمگیری ج ۱ ص ۱۲۱)
عُمر بھر کی نَمازیں  دوبارہ پڑھنا
   جس کی نَماز وں  میں  نقصان و کراہت ہو وہ تمام عمر کی نَمازیں  پھیرے تو اچّھی بات ہے اور کوئی خرابی نہ ہو تو نہ چاہئے اور کرے تو فجر و عصر کے بعد نہ پڑھے اور تمام رَکْعتیں  بھری پڑھے اور وِتر میں قُنُوت پڑھ کر تیسری کے بعدقَعدہ کر کے ، پھر ایک اور ملائے کہ چار ہو جائیں  ۔
						 (عالمگیری ج۱ص۱۲۴)
قَضا کالَفظ کہنا بھول گیا تو؟
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنّت ،مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرحمٰنفرماتے ہیں : ہمارے عُلماء تَصریح فرماتے ہیں : قَضا بہ نیّتِ ادا اور ادا بہ نیّتِ قضا دونوں  صحیح ہیں۔(فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ص۱۶۱)