Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
13 - 24
 دونوں  دُرُودوں  اور دعا کی جگہ صِرْف ’’ اللہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہ‘‘ کہہ کر سلام پھیر دے ۔ چوتھی تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ وِتْر کی تیسری رَکْعت میں  دعائے قُنُوت کی جگہ اللہُ اکبر کہہ کر فَقَط ایک بار یا تین بار’’ رَبِّ اغْفِرْ لِی‘ ‘ کہے ۔  (مُلَخَّص اَز فتاوٰی رضویہ مُخَرَّجہ ج۸ ص۱۵۷)یاد رکھئے! تَخفیف (یعنی کمی)کے اس طریقے کی عادت ہر گز نہ بنائیے،معمول کی نمازیں سنّت کے مطابِق ہی پڑھئے اور ان میں  فرائض و واجبات کے ساتھ ساتھ سُنَن اور مُستَحَبّات وآداب کی بھی رِعایت کیجئے۔
نمازِ قَصر کی قَضا
	اگر حالتِ سفر کی قَضانَماز حالتِ اِقامت میں  پڑھیں  گے تو قَصر ہی پڑھیں  گے اور حالتِ اِقامت کی قَضا نَمازحالتِ سفر میں  پڑھیں  گے تو پوری پڑھیں  گے یعنی قصر نہیں  کریں   گے۔ 				    (عالمگیری ج۱ص۱۲۱)
زمانۂ اِرتِداد کی نَمازیں 
	جو شَخص مَعَاذَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مُرتَد ہوگیا پھر اسلام لایا تو زمانۂ اِرتِداد کی نَمازوں  کی قَضا نہیں اورمُرتَد ہونے سے پہلے زمانۂ اسلام میں جو نَمازیں  جاتی رہی تھیں  اُن کی قضا واجِب ہے۔				 (رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۴۷)
بچّے کی پیدائش کے وقت نَماز
      دائی (Nurse/Midwife)نَماز پڑھے گی تو بچّے کے مر جانے کا اندیشہ ہے ،نَمازقَضا