Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
12 - 24
 اور مَرد بارہ سال کی عُمر سے نَمازوں  کا حساب لگائے۔      
قَضا پڑھنے میں  ترتیب
	قَضائے عُمری میں یوں  بھی کر سکتے ہیں  کہ پہلے تمام فجر یں  ادا کرلیں  پھر تمام ظُہر کی نَمازیں  اسی طرح عصر ،مغرِب اور عشاء ۔
قَضا ئے عُمری کا طریقہ(حنفی)
       قَضا ہر روز کی بیس رَکْعَتیں  ہوتی ہیں  ۔ دو فرض فجرکے، چار ظہر، چار عصر، تین مغرِب ، چار عشاء کے اور تین وِتر ۔نیّت اِس طرح کیجئے،مَثَلاً: ’’ سب سے پہلی فَجرجو مجھ سے قَضا ہوئی اُس کو ادا کرتا ہوں۔ ‘‘ ہرنَماز میں  اِسی طرح نیّت کیجئے ۔جس پر بکثرت قَضانَمازیں  ہیں  وہ آسانی کیلئے اگر یُوں  بھی ادا کرے تو جائز ہے کہ ہر رُکوع اور ہرسَجدے میں  تین تین بار ’’سُبْحٰنَ رَبِّیَ الْعَظِیْم ‘سُبْحٰنَ  رَبِّیَالْاَعْلٰی‘‘کی جگہ صرف ایک ایک بار کہے ۔ مگر یہ ہمیشہ اور ہر طرح کی نَماز میں  یاد رکھنا چاہئے کہ جب رکُوع میں  پوراپَہنچ جائے اُس وقت سُبحٰنکا ’’سین ‘ ‘ شُروع کرے اور جب عظیم کا ’’ میم‘‘ ختم کر چکے اُس وقت رُکوع سے سر اٹھا ئے ۔ اِسی طرح سَجدے میں  بھی کرے۔ ایک تَخفیف(یعنی کمی) تویہ ہوئی اور دوسری یہ کہ فرضوں  کی تیسری اور چوتھی رَکْعَت میں  اَلحَمْد شریف کی جگہ فَقَط’’ سُبْحٰنَ اللہِ‘‘ تین بار کہہ کر رُکوع کر لے ۔ مگر وِتر کی تینوں  رَکْعَتوں  میں  اَلحَمْد شریف اور سُورت دونوں  ضَرور پڑھی جائیں  ۔ تیسری تَخفیف(یعنی کمی) یہ کہ قعدئہ اَخیرہ میں  تَشَھُّد یعنی اَلتَّحِیّات کے بعد