Brailvi Books

قضانمازوں کا طریقہ(حنفی)
11 - 24
  کی پرورِش اور اپنی ضَروریات کی فراہمی کے سبب تاخیر جائز ہے ۔لہٰذا کاروبار بھی کرتا رہے اورفُرصت کا جو وَقت ملے اُس میں قضا پڑھتا رہے یہاں  تک کہ پوری ہو جائیں۔ 	
						(دُرِّمُختار ج۲ص۶۴۶)
چُھپ  کر قَضا پڑھئے
	قضانَمازیں  چُھپ کر پڑھئے لوگوں پر ( یا گھر والوں  بلکہ قریبی دوست پر بھی )  اس کااِظہار نہ کیجئے ( مَثَلاً یہ مت کہا کیجئے کہ میری آج کی فَجرقضا ہو گئی یا میں  قَضائے عمری پڑھ رہا ہوں  وغیرہ ) کہ گناہ کا اِظہاربھی مکروہِ تحریمی وگناہ ہے۔(رَدُّالْمُحتار ج۲ص۶۵۰)  لہٰذا اگر لوگوں   کی موجودَگی میں  وِتر قضا پڑھیں  تو تکبیرِقُنُوت کیلئے ہاتھ نہ اُٹھائیں  ۔
جُمُعۃُ الوَداع میں  قَضائے عُمری
           رَمَضانُ المبارَککے آخِری جُمُعہ میں  بعض لوگ باجماعت قضائے عُمری پڑھتے ہیں  اور یہ سمجھتے ہیں  کہ عمر بھر کی قضا ئیں  اِسی ایک نَماز سے ادا ہو گئیں  یہ باطِل مَحض ہے ۔						(بہارِ شریعت ج۱ص۷۰۸)
عمر بھر کی قَضا کا حساب
     جس نے کبھی نَمازیں  ہی نہ پڑھی ہوں  اور اب توفیق ہوئی اورقضا ئے عمری پڑھنا چاہتا ہے وہ جب سے بالِغ ہوا ہے اُس وَقت سے نَمازوں  کا حساب لگائے اور تاریخ بُلُوغ بھی نہیں  معلوم تو اِحتیاط اِسی میں  ہے کہ ہجری سِن کے حساب سے عورت نو سال کی عُمر سے