Brailvi Books

نورِہدایت
26 - 31
کرنے لگا۔ اسی دوران ایک مرتبہ خوشخبری سننے کو ملی کہ شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سنّتوں بھرے اجتماع میں بیان کرنے کے لئے گجرانوالہ شہر میں تشریف لا رہے ہیں ۔ اسلامی بھائیوں نے مجھے بھی اس عظیم الشان سنّتوں بھرے اجتماع میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ میں نے بمشکل گھر والوں سے اس اجتماع میں شریک ہونے کی اجازت حاصل کی اور علاقے کے دیگر عاشقانِ رسول کے ہمراہ گجرانوالہ شہر کی جانب روانہ ہو گیا۔ اجتماع گاہ پہنچے تو وہاں بہت رش تھا۔ بہت کوشش کے باوجود آگے جا کر بیان سننے کی سعادت نہ مل سکی البتہ دور سے شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت ہو گئی۔ بیان کے اختتام پر شیخِ طریقت، امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اجتماعی توبہ کروانے کے بعد بیعت کروائی تو میں بھی اس میں شریک ہوگیا اور قادری  عطاری بن گیا اور حضور غوثِ پاک عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ الرَّزَّاق کی غلامی کا پٹہ اپنے گلے میں ڈال لیا۔ ایک ولیِ کامل کے دامنِ کرم سے وابستہ ہونے کے بعد مجھ میں آہستہ آہستہ تبدیلی آنے لگی۔ عبادت کا ذوق وشوق پروان چڑھنے لگا اور نیکیوں میں دِل لگنے لگا۔ پھر ایک مرتبہ رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے کے لئے دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اجتماعی اعتکاف میں بیٹھ گیا وہاں کے مسحور کن ماحول نے میرے جذبے کو چار چاند لگا دیے اور میں مکمل طور پر دعوتِ اسلامی کے مدنی رنگ میں رنگ گیا۔