کی پُرخار وادیوں سے نیکیوں کے گلشن تک پہنچنے کے احوال کچھ یوں تحریر کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کا سنّتوں بھرا مدنی ماحول میسر آنے سے قبل بد قسمتی سے میرا اُٹھنا بیٹھنا ایسے لوگوں کے ساتھ تھا جو قبر وآخرت کی تیاری سے یکسر غافل تھے۔ ـ’’صحبت اثر رکھتی ہے‘‘ کے مصداق برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے میں بھی دن بدن اخلاقی برائیوں کا شکار ہوتا جا رہا تھا، حیاء سوز فلمیں دیکھتا تھا، کم عمری میں ہی سگریٹ نوشی کی عادت پڑ گئی تھی اور اب چرس اور ہیروئن پینے کی بھی ٹھان لی تھی، قریب تھا کہ میں ان حرام اشیاء کو بھی منہ لگا تا مگر میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بچا لیا۔ پتنگ بازی اور کیرم بورڈ کھیلنے کا بھی جنون کی حد تک شوق تھا۔ کیرم بورڈ کا تو ایسا دیوانہ ہو چکا تھا کہ بارہا بیمار والدہ کو بستر پر پڑا چھوڑ کر کیرم بورڈ کھیلنے پہنچ جاتا تھا۔ میری والدہ میری حرکتوں کی وجہ سے بہت تنگ آچکی تھیں ۔ بار ہا سمجھا تی تھیں مگر میں اپنی حرکتوں سے بھلا کب باز آنے والا تھا۔ اس کے علاوہ میرے لڑائی جھگڑے بھی عروج پر تھے جس کی وجہ سے گھر والے ہر آن پریشانی کی کیفیت میں رہتے تھے۔ ہر وقت ان کوایک ہی فکر دامن گیر رہتی تھی کہ میرے یہ لڑائی جھگڑے انہیں جیل کے چکر نہ لگوادیں ۔ وہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا کرم ہوا کہ مجھے دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر آگیا ورنہ نجانے میرا کیا بنتا، ہوا کچھ اس طرح کہ ایک دن میری دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک ذمہ دار