ذَریعے کسی کو نیک بنانے، گناہوں سے بچانے اور بُری صحبت سے چھٹکارا دِلانے کا شوق ہے تو پہلے غیر اَمردوں پر تَوَجُّہ دیں۔ جب اس میں کامیابی مل جائے تو پھر اَمردوں کے بارے میں سوچیں۔ دوسروں کو چھوڑ کر صرف اَمردوں ہی کی فِکر میں لگے رہنا اور انہی پر اِنفرادی کوشش کرتے رہنا یہ نفس و شیطان کا دھوکا ہے اس سے بچنا ضَروری ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان کے چُنگل میں پھنس کر، اَمرد پسندی کا شِکار ہو کر اَمردوں کی اِصلاح کرنے اور ان كا اِیمان بچانے کے بجائے اپنے اِیمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں۔اِس ضِمن میں ایک حِکایت مُلاحظہ کیجیے اور عِبرت کے مدنی پھول چنیے چنانچہ
حضرتِ سیِّدُنا عبدُاﷲ بن اَحمد مُؤذِّن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:میں طوافِ کعبہ میں مشغول تھا کہ ایک شخص پر نظر پڑی جو غِلاف ِکعبہ سے لپٹ کر ایک ہی دُعا کی تکرار کر رہا تھا:”یااللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھے دُنیا سے مسلمان ہی رُخصت کرنا۔“میں نے اُس سے پوچھا :اِس کے عِلاوہ کوئی اور دُعا کیوں نہیں مانگتے؟ اُس نے کہا:میرے دوبھائی تھے، بڑا بھائی چالیس سال تک مسجِدمیں بِلا مُعاوَضہ اذان دیتا رہا۔ جب اُس کی موت کا وقت آیا تو اُس نے قرآنِ پاک مانگا، ہم نے اُسے دیا تاکہ اس سے بَرَکتیں حاصِل کرے، مگر قرآن شریف ہاتھ میں لے کر وہ کہنے لگا:تم سب گواہ ہوجاؤکہ میں قرآن کے تمام اِعتقادات و اَحکامات سے