عرصہ ہوا طیبہ کی گلیوں سے وہ گزرے تھے
اس وقت بھی گلیوں میں خوشبو ہے پسینے کی
حضورِ اکرم، نورِ مجسَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ مُعَظَّم ہے:وہ اسے یَثْرِبْ کہتے ہیں اور وہ تو مدینہ ہے۔ (1) محقق عَلَی الْاِطلاق، حضرتِ سیِّدُنا شیخ عبدُالحق محدِّثِ دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:نبیٔ مکرَّم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اس کا نام ’’ مدینہ ‘‘ رکھا۔ اس کی وجہ وہاں لوگوں کا رہنا سہنا اور جمع ہونا اور اس سے اُنس و مَحبت رکھنا ہے اور آپ نے اسے یَثْرِبْ کہنے سے منع فرمایا۔اس لئے کہ یہ زمانۂ جاہلیت کا نام ہے یا اس لئے کہ یہ ’’ ثربٌ ‘‘ سے بنا ہے جس کا معنیٰ ہلاکت اور فساد ہے اور ’’ تَثْرِ یْب ‘‘ بمعنیٰ سرزنِش اور مَلامَت ہے یا اس وجہ سے کہ ’’ یَثْرِبْ ‘‘ کسی بُت یا کسی جابِر و سَرکش بندے کا نام تھا۔ ‘‘ امام بخاری (عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی) اپنی تاریخ میں ایک حدیث لائے ہیں کہ ’’ جو کوئی ایک مرتبہ (مدینے کو) یَثْرِبْ کہہ دے تو اسے دَس مرتبہ ’’ مدینہ ‘‘ کہنا چاہیے تاکہ اس کی تلافی اور تدارک ہو جائے۔ ‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے کہ ’’ یَثْرِبْ کہنے والا اللہ تعالٰی سے اِستِغفار کرے اور مُعافی مانگے۔ ‘‘ اور بعض نے فرمایا ہے کہ اس نام سے پکارنے والے کو سزا دینی چاہیے۔‘‘ (مزید فرماتے ہیں:) حیرت کی بات ہے
________________________________
1 - بخاری ،کتاب فضائل المدینة ، باب فضل المدینة...الخ ،۱/۶۱۷،حدیث: ۱۸۷۱ دارالکتب العلمیة بیروت