عیسیٰ بن دِینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْغَفَّار سے حِکایت نقل کی گئی کہ جس کسی نے مدینۂ طیبہ کا نام یَثْرِبْ رکھا یعنی اس نام سے پکا را تو وہ گناہ گار ہو گا۔جہاں تک قرآنِ مجید میں یَثْرِبْ کے نام کے ذِکر کا تعلق ہے تو معلوم ہو نا چاہئے کہ و ہ منا فقین کے قول کی حِکایت ہے کہ جن کے دِلوں میں بیماری ہے۔ (1)
اِس حدیثِ پاک کے تحت مُفَسّرِشَہِیر، حکیمُ الاُمَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:لوحِ محفوظ میں مدینۂ منوَّرہ کا نام طابہ یا طیبہ ہے یا ربّ تعالٰی نے اپنے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حکم دیا کہ اس کا نام طابہ رکھیں، اس کے معنیٰ ہے پاک و صاف اور خوشبودار جگہ۔ اسے ربّ تعالٰی نے کفر و شِرک سے پاک کیا ، یہاں کے باشندوں کو بَدخُلقی وغیرہ سے صاف فرمایا جیسا کہ آج بھی مُشاہدہ ہے کہ مدینۂ منوَّرہ (زَادَھَا اللّٰہُ شَرْفًا وَّتَعْظِیْمًا) کے (اصل) باشندے اَخلاق و عادات اور نرمئ طبیعت میں بہت اعلیٰ ہیں۔ نیز زمینِ مدینہ بلکہ دَرو دیوار میں ایک خاص مہک ہے وہاں کے خَس و خاشاک (کوڑا کرکٹ) اگر چہ گلی کو چوں میں جمع ہیں مگر بد بو نہیں دیتے، وہاں کی مٹی میں قدرتی خوشبو ہے مگر محسوس اُسے ہو جس کے دِما غ میں کفر و نفاق کا نزلہ زُکام نہ ہو۔ (2)
________________________________
1 - مرقاةُ المفاتیح ،کتاب المناسک ، باب حرم المدینة...الخ،۵/۶۲۲، تحت الحدیث: ۲۷۳۷
2 - مراٰۃ المناجیح ،٤/٢١٦ ضیاء القرآن پبلی کیشنز مرکز الاولیا لاہور