مدینہ طابہ ہے۔ (1) اِس حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ عبدُ الرَّ ءُوْف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: (حدیثِ پاک میں مدینۂ طیبہ کو یَثْرِبْ کہنے پر) اِستغفار کرنے کے حکم سے ظاہر ہوتا ہے کہ مدینۂ طیبہ کا یَثْرِبْ نام رکھنا حرام ہے کہ یَثْرِبْ کہنے سے اِستِغْفار کا حکم فرمایا اور اِستغفار گناہ ہی سے ہوتا ہے۔ (2)
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ خوشبودار ہے:بیشکاللہعَزَّوَجَلَّ نےمدینہ کا نام طابہ رکھا۔ (3) اس حدیثِ پاک کے تحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں:اللّٰہتعالٰی نے لوحِ محفوظ میں مدینہ کا نام”طابہ“رکھا ہے یا اپنے محبوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو حکم فرمایا کہ وہ مدینۂ پاک کا نام طابہ رکھیں تاکہ یَثْرِبْ نام رکھنے والے منافقین کا رَد کرتے ہوئے نازیبا (یعنی نامناسب ) نام کی طرف رُجُوع کرنے پر ان کی سرزنِش (یعنی ملامت) کی طرف اِشارہ ہو جائے۔ (4) اِسی میں اِمام شرفُ الدِّین نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کے حوالے سے ہے: حضرتِ سیِّدُنا
________________________________
1 - کنزالعمال ،کتاب الفضائل ، فضائل المدینة...الخ،الجزء: ۱۲،۶/۱۰۷،حدیث: ۳۴۸۳۶ دار الکتب العلمية بیروت
2 - فیضُ القدیر، حرف المیم ،۶/۲۰۱،تحت الحدیث : ۸۷۶۰
3 - مشکاةُ المصابیح ،کتاب المناسک ، باب حرم المدینة...الخ ،الفصل الاول ،۱/۵۰۹،حدیث: ۲۷۳۸ دار الکتب العلمیة بیروت
4 - مرقاةُ المفاتیح ،کتاب المناسک ، باب حرم المدینة...الخ ،۵/۶۲۲،تحت الحدیث: ۲۷۳۸ دار الفكر بيروت