فرمانِ عالیشان ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ) تَرجمۂ کنزُ الایمان:”اے ایمان والو مشرک نِرے ناپاک ہیں۔“اور ناپاکی کی حالت میں قرآن یا تَرجمۂ قرآن کو چھونا حرام ہے چنانچہ پارہ 27 سورۃُ الواقعہ کی آیت نمبر 79 میں اِرشادِ ربّ العباد ہے: (لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَؕ (۷۹) ) ترجمۂ کنز ُ الایمان: اسے نہ چھوئیں مگر باوضو۔
ہاں! اگر غیر مسلم کے ہدایت قبول کرنے کی اُمید ہوتو پھر غسل کے بعد اُسے قرآن یا ترجمہ ٔ قرآن کنزُالایمان یا کنزُالایمان کا دِیگر زبانوں مثلاً اِنگلش، ڈچ، بنگلہ، ہندی، پشتو اور سندھی وغیرہ میں ہونے والا تَرجمہ یا ایسے رَسائل جن میں آیاتِ قرآنی ہوں دینے میں حرج نہیں۔ فتاویٰ ہندیہ میں ہے:غیر مسلم مصحف (یعنی قرآنِ پاک) کو نہیں چھو سکتا، ہاں اگر غسل کر کے پھر چھوئے تو حرج نہیں۔ (1) ترجمۂ کنزالایمان کے ساتھ ساتھ اگر اس کے تفسیری حاشیے ”خزائنُ العرفان“ کا بھی مُطَالَعہ کیا جائے تو یہ زیادہ مُفید ہے۔ (2)
اِصطلاحات کے تنظیمی فَوائد
سُوال:دعوتِ اسلامی میں بولی جانے والی اِصطلاحات کے تنظیمی فَوائد کیا ہیں ؟
________________________________
1 - فتاویٰ هندیه ،۵/۳۲۳ دار الفکر بیروت
2 - مزید تفصیلات جاننے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارےمکتبۃُ المدینہ کی مطبوعہ تفسیر”صِراط الجنان فی تفسیر القراٰن“ کا مُطالعہ کیجیے ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)