اِصلاح بھی ہو جائے اور دعوتِ اسلامی کے مدنی کاموں میں کسی قسم کی رُکاوٹ بھی پیدا نہ ہو۔ اِس حِکایت سے یہ دَرس ملا کہ کسی مشہور عالِمِ دِین بلکہ عام مسلمین کے بارے میں بھی کسی سُنی سُنائی بات پر یقین کر کے اُن سے بدظن نہیں ہو جانا چاہیے جب تک اچھی طرح تحقیق نہ کر لی جائے۔ اگر خدانخواستہ ایسی غَلَطی ہو جائے تو شَرعی تقاضو ں کو پورا کرتے ہوئے اس سے توبہ کر لینی چاہیے۔
ہے فَلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں
ہر بنا کام بِگڑ جاتا ہے نادانی میں
غیرمُسلِم کو تَرجَمۂ قرآن دینا کیسا؟
سُوال:اگر کسی کو مُترجم قرآنِ پاک دینا ہوتو کونسا دیا جائے ؟ نیز غیرمُسلِم کو ترجمۂ قرآن یا ایسے رَسائل جن میں آیاتِ قرآنی ہوں دینا کیسا ہے ؟
جواب:کسی مسلمان کو تَرجمۂ قرآن دینا ہوتو میرے آقا ئے نعمت ، اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کا شہرۂ آفاق ترجمۂ قرآن ”کنزُالایمان “دیا جائے کہ یہ اُردو زبان کے تمام تَراجم میں سب سے بہترین اور مُحتاط تَرجمہ ہے۔ رہی بات غیر مُسلِم کو تَرجمۂ قرآن یا ایسے رَسائل دینے کی جن میں آیاتِ قرآنی ہوں تو اُسے یہ نہیں دے سکتے کیونکہ غیر مُسلِم ناپاک ہوتے ہیں جیسا کہ پارہ 10سورۃُ التوبہ کی آیت نمبر 28 میں خُدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کا